• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’گل پلازا ثقافتی ورثہ تھا، تاجروں کا ہی نہیں شہر کا بھی نقصان ہے‘، شوبز انڈسٹری بھی غم سے نڈھال

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

کراچی کے قلب میں واقع اہم تجارتی و شاپنگ مرکز گُل پلازا میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

اس سانحے پر پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

نامور اداکار نعمان اعجاز نے انسٹااسٹوری میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے سوگ کا باعث ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر اور نقصانات کے ازالے کی دعا کی۔

اداکارہ سجل علی نے کہا کہ میں اس سانحے پر دل شکستہ ہوں اور ان کی دعائیں تمام متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔

اداکارہ علیزے شاہ نے اس افسوسناک حادثے پر شدید دکھ ظاہر کرتے ہوئے جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس واقعے کو ناقابلِ یقین قرار دیدیا۔

انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت، ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و حوصلے، اور زخمی یا لاپتہ افراد کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے دعا کی اور کراچی والوں سے مستحکم رہنے اور اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی اپیل بھی کی۔

اداکار علی عباس نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس سانحے نے شہر کی موجودہ صورتحال کو بے نقاب کردیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اب وقت آ گیا کہ کراچی کے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب دانشمندی سے کریں۔

اداکارہ ایمن خان نے بھی اس سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرین کے لیے دعا کی۔

اداکارہ مدیحہ امام نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لکھا کہ گل پلازہ صرف شاپنگ سینٹر نہیں تھا بلکہ یہ کراچی کا ثقافتی ورثہ بھی تھا۔ اس سانحہ میں ہونے والے جانی نقصان کا اندازہ کبھی نہیں لگایا جاسکتا لیکن مالی نقصان کا اندازہ کرسکتے ہیں جو کہ تقریباً 20 سے 25 ملین ڈالرز تھا جو خاک میں مل گیا ہے۔ یہ نقصان صرف تاجروں کا ہی نہیں بلکہ شہر کا بھی ہے۔

واضح رہے کہ اس افسوسناک واقعے میں اب تک تقریباً 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ 

حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ واقعے کے وقت عمارت کے اندر موجود تھے۔

ہفتے کی شب بھڑکنے والی آگ تقریباً 33 گھنٹوں تک بے قابو رہی، اس پر (آج) پیر کی صبح 90 فیصد قابو پالیا گیا ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس آگ کے نتیجے میں اربوں روپے کے مالی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید