ڈزنی کے نامور مصنف، ہدایتکار اور شہرۂ آفاق اینیمیٹڈ فلم ’دی لائن کنگ‘ کے خالق راجر ایلرز 76 برس کی عمر میں چل بسے۔
ان کی موت سے ڈزنی اینیمیشن کے اُس سنہری دور کا ایک اہم باب ختم ہو گیا، جس نے دنیا بھر میں بچوں اور بڑوں کی یادوں اور پاپ کلچر کو تشکیل دیا۔
راجر ایلرز کی موت کی تصدیق معروف ویژول ایفیکٹس سپروائزر، قریبی دوست اور طویل عرصے تک ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھی ڈیو بوسرٹ نے فیس بک پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے کی۔
ڈیو بوسرٹ کے مطابق وہ چند روز قبل ہی راجر ایلرز سے رابطے میں تھے، جس کے باعث یہ خبر اور بھی اچانک اور ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے۔
ڈیو بوسرٹ نے لکھا کہ مجھے یہ خبر سن کر بے حد دکھ ہوا کہ ہمارے دوست راجر ایلرز اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں، ہم گزشتہ ہفتے ہی ایک دوسرے سے ای میلز کے ذریعے رابطے میں تھے، جب وہ مصر کے سفر پر تھے، راجر ایک غیر معمولی باصلاحیت فنکار اور فلم ساز تھے اور ڈزنی اینیمیشن کے سنہری دور کا مضبوط ستون تھے۔
راجَر ایلرز کو خاص طور پر 1994 میں ریلیز ہونے والی فلم ’دی لائن کنگ‘ کی مشترکہ ہدایتکاری پر عالمی شہرت حاصل ہوئی، جو انہوں نے روب منکوف کے ساتھ مل کر کی، فلم میں میتھیو بروڈرک، جیرمی آئرنز اور جیمز ارل جونز نے اپنی آوازیں دیں، ’دی لائن کنگ‘ نے اپنی ابتدائی نمائش کے دوران دنیا بھر میں 771 ملین ڈالر کا بزنس کیا اور اینیمیٹڈ فلموں کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
فلم کی مقبولیت کا یہ سلسلہ برسوں بعد بھی برقرار رہا، جب 2019 میں بننے والا ریمیک دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل ہوا اور عالمی سطح پر 1.6 ارب ڈالر سے زائد کا بزنس کیا۔
’دی لائن کنگ‘ کے علاوہ راجر ایلرز نے کئی دیگر اہم منصوبوں پر بھی کام کیا۔ انہوں نے 2006 کی اینیمیٹڈ فلم ’اوپن سیزن‘ کی ہدایتکاری کی، جبکہ ان کا ذاتی اور جذباتی منصوبہ ’دی لٹل میچ گرل‘ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوا، جس نے ان کے حساس اور اثر انگیز اندازِ کہانی کو نمایاں کیا۔