• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اس وقت سب سے زیادہ باخبر، سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ سچا ہوں میرے مقابلے میں جو کوئی بھی خبر دے وہ جھوٹا ہے اسکی اطلاع شوشا ہے اور وہ خود ناقابل اعتبار ہے۔ میں کوئی باقاعدہ صحافی نہیں بس تحریک انصاف سے دھکا ملا تو صحافت میں سیاست شروع کر دی طاقت کے ایوانوں کا پتھر بن کر اب مزے میں ہوں والدین نے نام تو بھلا رکھا تھا مگر عصری تقاضوں کے پیش نظر ابن ایوب شریفی کے قلمی نام کو اپنا لیا ہے اس نام کے بڑے فائدے ہیں شریفی کہلوانے میں شرافت تو ٹپکتی ہی ہے، ایک ادارے کے شریف سربراہ اور ایک سیاسی جماعت کے شریف قائد سے تعلق کا اشتباہ بھی پیدا ہوتا ہے اس اشتباہ اور طاقت سے قربت کی وجہ سے مجھے یہ طاقت حاصل ہو گئی ہے کہ میں جسے چاہوں ’’ڈانٹ‘‘ پڑوا دوں جسکی اسٹوری چاہے ’’جھوٹی‘‘ اور ’’من گھڑت‘‘ قرار دلوا دوں میرا کام بہت آسان ہے میں نے صرف عمرانی دور کے ڈاکٹر وپارگل کے جھوٹ اور مغرور اقبال اوکاڑوی کے غرور و تکبر کو اپنایا ہے اور یوں اس وقت میں جس صحافی کو چاہوں اسکے بارے میں اداروں سے فتوی لے دوں اور جس کا چاہے مذاق اڑا دوں۔ مجھ پر ڈاکٹر وپارگل اور مغرور اوکاڑوی کی طرح ریاستی نوازشوں کی بارش ہے میں سی ڈی اے کو بلیک میل کروں یا کسی بڑے ٹی وی چینل کو ڈراؤں۔ میری دھمکیاں چلتی ہیں میرا کلا مضبوط ہے میری زنجیر طاقت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ کمزور، جاہل اور نگوڑے صحافی میرے سامنے کہاں ٹک سکتے ہیں۔

یہ دو ٹکے کے صحافی، طاقت کا نشہ کیا جانیں؟ یہ اقتدار سے قربت کی عیاشیاں کیا جانیں؟ یہ نئے زمانے کی چالیں کیا سمجھیں؟ یہ قلم کاغذ والے فقیر علم نہیں کہاں سے خبریں نکالتے ہیں مجھے تو سب بنی بنائی، سجی سجائی اور گھڑی گھڑائی معلومات مل جاتی ہیں۔ میرے سوا سارے اینکر کیا بیچتے ہیں میں آج کے دور کاڈاکٹر وپار گل تو بن گیا ہوں طنز و نفرت شامل کر کے مغرور اوکاڑوی کے شاعر حکومت Poet Laureate کے درجے تک پہنچنے والا ہوں۔ اگر میرے لہجے میں تفاخر ہے تو اسکی وجہ میری طاقت و عظمت ہے کیڑے مکوڑے اور ٹنڈے کدو کیا جانیں تخت و تاج کا دبدبہ کیا ہوتا ہے؟پنڈی وال ہونے کا مجھے بہت فائدہ ہے مجھے اقتدار کے ایوانوں کے سب راستے معلوم ہیں، گیٹ نمبر 4 سے گزرنا تو میرا روز کا معمول ہے باقی گیٹ بھی میری دسترس سے دور نہیں۔ وزیر اعظم ، وزیر اور مشیر تو بس میرے لب ہلانے پر دوڑے چلے آتے ہیں۔ ڈاکٹر وپار گل اور مغرور اوکاڑوی تو وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مجھے حاصل ہے ان سب سے دراصل ایک فاش غلطی ہو گئی کہ وہ غروب ہونے والے ستارے کے عشق میں مبتلا ہو گئے مجھے ا چھی طرح احساس ہے کہ چڑھتے سورج کا پجاری رہنا ہی دنیاوی کامیابی کا راز ہے آپ کبھی غور سے مجھے دیکھیں تو میری سج دھج، کنگھی پٹی اور شان و شوکت کسی جرنیل کرنیل یا وزیر مشیر سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہی لگتی ہے آخر دو ٹکے کے غریب صحافیوں اور ایک متمول رئیس گھرانے کے فرد میں فرق تو واضح نظر آنا چاہئے۔

یہ نگوڑے اور غریب صحافی نہ میرے حملوں کا جواب دے سکتے ہیںنہ یہ میرے جملوں کا حساب لے سکتے ہیں طاقت میرے ساتھ ہے تو ان نگوڑوں کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ یہ اگر جواب بھی دیں گے تو وہ پھسپھسا ہو گا۔ یہ چاہے جہل کے اعتبار سے ابو ایوب سے ابوجہل بنائیں یا صحافت کی اخلاقیات کو آگ لگانے کی وجہ سے ابو ایوب کی بجائے ابو لہب قرار دیں ان کے الفاظ کی رسائی اور ان کے لہجے کا اثر مجھ تک پہنچ ہی نہیں سکتا کیونکہ میں تو اقتدار کی چوٹی پر متمکن ہوں جہاں مظلوموں اور مردودوں کی آہیں اور چیخ و پکار نہیں پہنچتیں۔ یہاں سچ کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ دوسری رائے میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے ’’وہاں سب ٹھیک ہے‘‘ کا راج ہوتا ہے۔

مجھ سے زیادہ اس نظام کو کوئی نہیں سمجھتا۔ نظام کو کسی کے ماضی سے کوئی دلچسپی نہیںکہ کسی کے کیا نظریات ہیں؟ اس نے ماضی میں کونسی قلابازیاں کھائیں؟ کوئی خوشامدی ہے یا نظریاتی؟ بس اسے حالیہ زمانے کی فکر ہے۔ جب نظام کے فلسفے کی سمجھ آئی تو میں نے ماضی کا ریکارڈ بھلا دیا اور زمانے کی چال چلنے لگا اسی لیے کامیاب ہوں۔ مجھے کئی خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ صحافتی اخلاقیات میں صحافی کو ڈسکس نہیں کیا جاتا اس کی خبر پر بحث مباحثہ یا اقرار و انکار کیا جاتا ہے مگر میں ڈاکٹر وپارگل اور مغرور اقبال اوکاڑوی کی ترقی اور کامیابی کا راز پا چکا ہوں انہیں کے راستے پر گامزن ہوں کونسی اخلاقیات کونسی صحافت آج تو صرف الزامات اور شکوک و شبہات ہی کامیابی دیتے ہیں میں بھی اسی فارمولے پر چل رہا ہوں۔کسی ذات کے رپورٹر نے مجھے کہاوت سنائی Don't shoot the messenger یعنی خبر دینے والے کو نشانہ نہ بنائیں مگر یہ میرے فلسفہ اخلاق و صحافت سے کہاں لگا کھاتا ہے صحافیوں کی مدھر موسیقی کون سنتا ہے یہاں تو ڈھول بجانے پڑتے ہیں سو میں ڈھول کا کھلاڑی ہوں۔ جس کسی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہو یا جس کسی کی شادی ہواس پر باجا بجانا میرے ذمے ہے۔ میرا عزم تو سب سے بڑا سب سے طاقتور اور سب سے باخبر صحافی بننا ہے اس کیلئے ڈھول بجانا پڑے، باجے سے کام لینا پڑے یا بھونپوکا کردار ادا کرناپڑے یا پھر ترجمان کا عہدہ لینا پڑے سب جائز ہے۔

صفحہ نمبر۔302

مضافات کا ایک صحافی جو بے وقوف اور بے خبر ہے نام شاید سہیل وڑائچ ہے نہ اسے حکومت اور نہ ہی مقتدرہ منہ لگاتی ہے ہر ایک سے ڈانٹ کھاتا ہے نہ اسے کہیں رسائی حاصل ہے مگر دعوے کرنے میں وہ نادان سب سے آگے ہے۔ میں تو اس کو جانتا تک نہیں، کبھی ملا بھی نہیں اور نہ ہی اس سےملنے کی کوئی ضرورت ہے وہ جاہل فقیر بے پر کی اڑاتا ہے کہ اسکی قدر بڑھ جائے مگر وہ ازلی شوشے باز ہے مجھے علم تھا کہ کمزور ہے اس پر چڑھ دوڑوں تو اسے گرا ہی لونگا، بس جونہی اس نے ایک کالم لکھا میں نے طاقت کے دروازے کھٹکھٹائے اس کی تردید کروائی اس کی اسٹوری کو من گھڑت قرار دلوایا۔ اس طرح سے میں نے اس کا تو کریا کرم کر دیا اور اسکی صحافت کی راکھ پر اپنا محل تعمیر کر لیا۔ پتہ نہیں وہ کیسے 40 سال صحافت میں چل گیا ،نہ اس کا کوئی رسوخ ہے اور نہ کوئی اس کے دفاع میں بولا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں فاتح وڑائچ ہوں آخر پنڈی وال ہوں اس بوڑھے نگوڑے نے میرے سامنے زیر نگیں ہونا ہی تھا میری اسکیم کامیاب رہی اور اب یہ نام نہاد صحافی طاقت سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے میں نے اسے مار کر حکومت اور نظام کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔

صفحہ نمبر420۔ آخری نوٹ

یہ دنیا 420 پر ہی چلتی ہے اورمیں نے اس فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں ان میں میری حکمت عملی ہی کامیاب ہے کونسا سچ کونسا اصول کونسی صحافت، وہی سب کچھ کرو جو پیا من بھائے اور پھر پھل کھاؤ کون 20 یا 40 سال کولہو کے بیل کی طرح خون پسینہ خشک کرے میرا راستہ 420 ہے یہی بہتر اور یہی کامیاب ہے باقی سب راستے پیکا، مشکلات اور ابتلا کی طرف لے جاتے ہیں۔ کامیابی کا نسخہ صرف اور صرف میرے پاس ہے مجھے دیکھو اور کامیابی پاؤ…

تازہ ترین