میں نے’رودادِ ستم‘ پڑھی۔ پھر آئینے میں خود کو دیکھا۔سچ یہ ہے کہ چہرہ نہیں دیکھا اپنی کمزوری دیکھی۔حامد میر کے قلم میں سیاہی نہیںگواہی ہے۔ اور میرے پاس؟ خاموشی۔ حامد میر کی یہ رودادِ ستم دراصل ایک کتاب نہیں، ایک اخلاقی دستاویز ہے۔ اس میں مصنف نے ظلم کو صرف واقعات کی قطار نہیں بنایا بلکہ ظلم کے پیچھے جو نظامِ قوت ہوتا ہے، اس کی ساخت، اس کی منطق (بلکہ یوں کہیے اس کی بدمنطقی)، اور اس کے محافظوں کی نفسیات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ظلم کی سب سے بڑی قوت یہ نہیں کہ وہ ہتھیار رکھتا ہےاس کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے جواز بھی تراش لیتا ہے۔ چنانچہ جہاں ظلم خود کو دلیل کا لباس پہنائے، وہاں قلم کو واجب ہے کہ اس کے گریبان سے دلیل نوچ کر اسے عیاںکر دے۔ حامد میر کی تحریر کی یہی خوبی ہے کہ وہ خبرپر اکتفا نہیں کرتے وہ خبر کی تہہ میں اتر کر ضمیر کے سوال اٹھاتے ہیں۔ گویا یہ کتاب صحافت نہیں صحافت کے اندر اخلاقیات کی پیوند کاری ہے۔
کتاب کا پہلا نمایاں باب فلسطین/غزہ ہے، اور یوں کہیے کہ یہ باب کتاب کی روح میں گھلا ہوا ہے۔ مصنف نے فلسطین کے دکھ کو رومان نہیں بنایا اس میں تاریخ کی گہرائی، سیاست کی بے رحمی، اور اخلاق کی کشمکش کو ساتھ جوڑا ہے۔ یہ طرزِ بیان اُس شعلے کی مانند ہے جو صرف جلتا نہیں، روشنی بھی دیتا ہے۔ مگر بندۂ غالب مزاج یہ عرض کیے بغیر نہ رہے گا کہ کہیں کہیں جذبات کا سیلاب اتنا تیز ہو جاتا ہے کہ قاری عمل کی سمت میں نقشۂ راہ کم دیکھ پاتا ہے۔ دل کی گرمی بجا، مگر اگر اس گرمی کے ساتھ تدبیر کا چراغ بھی برابر روشن رہے تو پڑھنے والا صرف آہ نہیں کرتا، کچھ ٹھہر کر سوچتا بھی ہے کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ ۔
اسی باب سے جڑا ہوا قائداعظم اور علامہ اقبال کے حوالے کا حصہ کتاب کی علمی متانت کو بڑھاتا ہے۔ یہاں مصنف نے تاریخ کو محض قصہ نہیں سمجھا، حجت سمجھا ہے۔ اقبال اور قائد کا ذکر ایسے وقت میں کہ جب ہمارا سیاسی مزاج حوالوں کو صرف تعویذ بناتا ہے، واقعی قابلِ داد ہے کیونکہ مصنف نے اقتباس سجا کر نہیں رکھا، اقتباس سے اصول کشید کیا ہے۔ اقبال و قائد کے حوالے سے یہ نکتہ مضبوط ہوتا ہے کہ فلسطین پر موقف جذباتی ہمدردی نہیں، اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تاہم، اصلاحی پہلو یہ ہے کہ اس تاریخی استناد کو محض فخر نہیں بننا چاہیےاسے آج کے سیاسی و سفارتی عمل میں منضبط حکمت کی شکل بھی دینی چاہیے۔ یعنی حوالہ کتاب میں خوب، مگر قوم کی پالیسی میں بھی لازم! ورنہ ہم تاریخ پڑھ کر صرف داد دیتے رہیں گے اور حال ہمارے ہاتھ سے نکلتا رہے گا۔
کتاب کا تیسرا بڑا زاویہ کشمیر اور فلسطین کے تناظر میں پاکستان کی ریاستی حکمتِ عملی اور حکمرانوں کے طرزِ عمل کا محاسبہ ہے۔ یہاں مصنف کی جرأت ایسی ہے کہ آدمی کہےیہ قلم نہیں، عدالت ہے! وہ صرف دشمن کے ظلم پر بات نہیں کرتے، اپنے گھر کے اندر موجود کمزوریاں، مفادات، کم ہمتی، اور اصولی انحراف کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ اور جناب! یہی وہ کام ہے جس پر ہمارے ہاں مصنف کو کبھی غدار کہا جاتا ہے، کبھی گستاخ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے گھر کی دیوار میں دراڑ دکھانا غداری نہیں، تعمیر ہے۔ اس حصے میں مصنف کا لب و لہجہ اگرچہ سخت نہیں، مگر سچ کی وجہ سے سخت محسوس ہوتا ہے اور سچ ہمیشہ سخت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہماری خود فریبی پر تازیانہ ہے۔ کتاب کے اندر ظلم و جبر کا عمومی بیانیہ مسلسل سانس لیتا ہے۔ یہ حصہ ایک ایسی اخلاقی کائنات بناتا ہے جس میں مظلوم صرف ایک کردار نہیں، مرکزِ معنویت ہے۔ مصنف کے یہاں انسان کی حرمت محض نعرہ نہیں وہ اسے اصولِ اوّل مانتے ہیں۔ اسی اصول پر وہ طاقت کے غلط استعمال کو رد کرتے ہیں، چاہے طاقت کسی بھی روپ میں آئے ادارے، سیاست، یا میڈیا کے پردے میں۔ یہاں کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو بے حس نہیں ہونے دیتی۔ ہمارے ہاں ظلم کی کثرت نے ہمیں عادی بنا دیا ہے اور عادت سب سے بڑا زہر ہے۔ مصنف اس زہر کے خلاف تریاق دیتے ہیں، وہ قاری کی عادت توڑتے ہیں، اسے بے چین کرتے ہیں مگر ایسی بے چینی جو نفرت پیدا نہیں کرتی، شعور پیدا کرتی ہے۔ یہی فرق ہے جذباتی تحریر اور فکری تحریر میں،پہلی صرف جلاتی ہے، دوسری روشنی بھی دیتی ہے۔
اس کتاب کے اسلوب پر کچھ عرض کروں تو یوں کہوں گا کہ مصنف کی نثر میں روانی ہے، اور فکر میں گرفت۔ وہ بات کو سجا کر نہیں رکھتے، کھول کر دکھاتے ہیں۔ کہیں کہیں عبارت خطیبانہ ہو جاتی ہے، مگر خطابتِ محض نہیں،یہ خطابت اُس وقت حسن بن جاتی ہے جب اس کے پیچھے دلیل ہو اور یہاں اکثر دلیل موجود ہے۔ مصنف واقعہ بیان کرتا ہے، پھر اصول قائم کرتا ہے، پھر نتیجہ نکالتا ہے۔یہ وہی منطقی ترتیب ہے جسے اہلِ منطق قیاس کے نام سے جانتے ہیں۔مقدمات درست ہوں تو نتیجہ اپنے آپ صحیح کھڑا ہوتا ہے۔ ہاں، جہاں مقدمہ جذبات کا زیادہ ہو جائے وہاں نتیجہ میں جذباتی رنگ بڑھ جاتا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مصنف اگر کبھی کبھی اپنے استدلال کو مزید ٹھوس شواہد، اعداد و شمار یا تاریخی تقابل سے سہارا دیدے تو تحریر خطابت سے نکل کر تحقیقی حجت بھی بن جائے۔ لیکن پھر بھی، انصاف یہ ہے کہ یہ کتاب صحافت کے مزاج کے مطابق، دلیل اور جذبے کے درمیان ایک خوشگوار توازن قائم رکھتی ہے۔ اور آخر میں غالب کا سا ایک فقرہ سنیے، جسے آپ چاہیں تو اس تبصرے کی مُہر سمجھ لیجیے’’صاحب! ظلم کی داستان بہت ہے، مگر اس سے بڑی داستان یہ ہے کہ لوگ اسے سنتے ہیں اور پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔ یہ کتاب خاموشی کے خلاف لکھی گئی ہے اور خاموشی ہی سب سے بڑا ستم ہے۔‘‘