موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی صبح کا الارم سب کو اپنا سب سے بڑا دشمن محسوس ہونے لگتا ہے۔
سردیوں میں اسکول جانے والے چھوٹے بچوں سے لے کر صبح کو دفتر جانے کے لیے جلدی اُٹھنے والے بڑوں تک تقریباََ ہر کوئی یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ صبح بستر سے اٹھنا ایک بہت بڑا چیلنج لگتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو کام گرمیوں میں آسان لگتا ہے وہ سردیوں میں انسان کے لیے اس قدر مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟
اس حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسم کے بدلتے ہی زندگی میں آنے والی اس تبدیلی وجہ کئی جسمانی اور نفسیاتی عوامل ہیں۔
سردی کیلئے جسم کا قدرتی ردعمل
سرد موسم میں انسانی جسم قدرتی طور پر توانائی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔کم درجہ حرارت جسم کی حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے میٹابولزم کو سست کر دیتا ہے جس سے سستی اور نیند کے احساس میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں خاص طور پر صبح میں جلدی اُٹھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
چھوٹے دن اور لمبی راتیں
سردی کے موسم میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں یعنی سورج دیر سے طلوع ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ انسان کو قدرتی روشنی کم ملتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے جسم کی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوجاتی ہے۔
قدرتی روشنی کم ملنے کی وجہ سے انسان کے جسم میں میلاٹونن ہارمون کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو نیند کا احساس دلاتا ہے جس سے صبح جلدی جاگنا مشکل ہو جاتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی
سردی کے موسم میں سورج کی محدود روشنی اکثر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کا باعث بنتی ہے۔
وٹامن ڈی نہ صرف ہڈیوں کی صحت کے لیے بلکہ توانائی کی سطح اور مزاج کو بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کی کمی تھکاوٹ، سستی اور ہلکے ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے اور ان تمام مسائل کی وجہ سے بھی صبح جلدی اٹھنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
خوراک اور روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی
موسم سرما کی خوراک میں اکثر بھرپور، تلی ہوئی یا زیادہ چکنائی والی غذائیں شامل ہوتی ہیں جن کی وجہ سے نظام ہاضمہ پر دباؤ پڑتا ہے پھر نیند تو گہری آتی ہے لیکن صبح میں جلدی اُٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پھر رات کے وقت فون یا ٹی وی کا زیادہ استعمال کرنے سے انسان کی نیند کا قدرتی چکر مزید متاثر ہو جاتا ہے۔
جسمانی سرگرمیوں میں کمی
موسم سرما میں انسان کے لیے ورزش اور چہل قدمی کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ کم جسمانی سرگرمی توانائی کی سطح کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سےصبح جسم جلدی متحرک نہیں ہوتا جو لوگ سردیوں میں ہلکی ورزش کرتے رہتے ہیں وہ صبح زیادہ آسانی سے جاگتے ہیں۔
نفسیاتی اثرات اور مزاج میں تبدیلیاں
دھند، ابر آلود آسمان اور سردیوں کے دوران محدود بیرونی سرگرمیاں بعض افراد میں اداسی یا بے حسی کے جذبات کو جنم دے سکتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں جلدی جاگنے کی خواہش بھی کم ہو سکتی ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلے ہی کسی ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہوں۔
سردیوں میں جلدی اٹھنے کے مؤثر طریقے
ماہرین موسم سرما کے دوران رات کو سونے اور صبح کو اُٹھنے کے مستقل شیڈول کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ماہرین نیند کا معیار بہتر بنانے کے لیے رات کو جلدی سونے اور سونے سے پہلے اسکرین کا وقت محدود کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں متوازن کھانے جیسے سبزیاں، دال یا سوپ کا استعمال کریں، کپڑے پہلے سے تیار رکھیں اور کمروں کو تھوڑا سا گرم رکھیں تاکہ بستر چھوڑنا آسان ہو جائے۔