اگر آپ ہر وقت کھانے پینے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں تو آپ اکیلے نہیں۔ ماہرین اس کیفیت کو اب ’فوڈ نوائس‘ کا نام دے رہے ہیں۔ فوڈ نوائس سے مراد کھانے سے متعلق مسلسل وہ خیالات ہیں جو اکثر جسمانی بھوک کے بغیر بھی ذہن پر حاوی رہتے ہیں۔
فوڈ نوائس کوئی طبی بیماری یا باقاعدہ تشخیص نہیں بلکہ ایک اصطلاح ہے جو اس ذہنی کیفیت کو بیان کرتی ہے جس میں انسان بار بار یہ سوچتا ہے کہ اب مجھے کیا کھانا ہے، کب کھانا ہے، یا کس چیز سے پرہیز کرنا ہے۔
جدید دور میں 24 گھنٹے کھانے کی دستیابی، سوشل میڈیا پر فوڈ ویڈیوز اور سخت ڈائٹ کلچر نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
فوڈ نوائس کیفیت کی ممکنہ وجوہات:
ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں بےقاعدہ کھانے کے اوقات، غذا میں پروٹین اور فائبر کی کمی، الٹرا پروسیسڈ اور میٹھی غذاؤں کا زیادہ استعمال، نیند کی کمی اور مسلسل ذہنی دباؤ کی کیفیت، سخت ڈائٹنگ اور کھانے پر غیر ضروری پابندیاں شامل ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ جن غذاؤں میں چینی، نمک اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے وہ دماغ کے ’ریوارڈ سسٹم‘ کو متحرک کرتی ہیں جس سے کھانے کے خیالات بار بار آنے لگتے ہیں۔
فوڈ نوائس اور بھوک میں فرق:
ماہرین کے مطابق فوڈ نوائس عام بھوک، کھانے کی خواہش (کریونگز) یا کھانوں سے جڑے جذبات سے مختلف ہے۔ بھوک کھانا کھانے سے ختم ہو جاتی ہے جبکہ فوڈ نوائس ایک مسلسل ذہنی شور کی صورت میں موجود رہتا ہے چاہے پیٹ بھرا ہی کیوں نہ ہو۔
اثرات:
فوڈ نوائس ذہنی دباؤ، بے چینی اور کھانے سے متعلق احساسِ جرم کو بڑھا سکتا ہے۔ مسلسل کھانے کے بارے میں سوچتے رہنا توجہ اور توانائی کو متاثر کرتا ہے اور بعض اوقات وزن اور صحت کے مسائل کا بڑا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کیا مشورہ دیتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقصد ذہن میں کھانے کے آنے والے مسلسل خیالات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ان کی شدت کم کرنا ہے۔
اس کے لیے باقاعدہ اور متوازن غذا کا استعمال، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، سخت ڈائٹنگ اور مسلسل کیلوریز گننے سے پرہیز مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
فوڈ نوائس کو سمجھنا خود کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے مسئلے کو پہچاننے کا ایک طریقہ ہے تاکہ من پسند غذائیں اور روز مرہ کا کھانا زندگی کا حصہ رہے، زندگی پر حاوی نہ ہو۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔