• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شدید کورونا اور فلو کے بعد پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، نئی تحقیق

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید کورونا وائرس یا انفلوئنزا (فلو) کے مریضوں میں مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ تحقیق امریکی ادارے یونیورسٹی آف ورجینیا ہیلتھ سسٹم کے سائنس دانوں نے کی ہے اور اسے معروف سائنسی جریدے ’سیل‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق شدید نوعیت کے وائرسز پھیپھڑوں میں ایسی دیرپا تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں جو بعد میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ 

سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ شدید انفیکشن کے بعد جسم کے مدافعتی خلیات کی کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے جس سے پھیپھڑوں میں مسلسل سوزش رہتی ہے اور یہی صورتِ حال رسولیوں کی نشوونما کو تیز کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن سے وابستہ تحقیق کے مرکزی سائنسدان ڈاکٹر جئے سُن کے مطابق شدید کورونا یا فلو کے بعد پھیپھڑے طویل عرصے تک سوزش کی حالت میں رہ سکتے ہیں جس سے کینسر کے خلیات کے بڑھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اکثر مریضوں میں اس کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے جس سے علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن سے صحت یاب ہونے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ 

اسی طرح  ڈیٹا کے مطابق کورونا کے باعث اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کا خطرہ تقریباً 1.24 گنا زیادہ پایا گیا، چاہے وہ تمباکو نوشی کرتے تھے یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید انفیکشن کے بعد نیوٹروفلز اور میکروفیجز نامی مدافعتی خلیات غیر معمولی انداز میں کام کرنے لگتے ہیں جس سے پھیپھڑوں میں ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جو رسولیوں کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ویکسینیشن اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ 

ویکسین وائرس کی شدت کو کم کر دیتی ہے جس سے پھیپھڑوں میں ہونے والی خطرناک تبدیلیوں کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ شدید کورونا، فلو یا نمونیا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی باقاعدہ طبی نگرانی کی جائے تاکہ اگر پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں تو بر وقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

صحت سے مزید