عالمی منظر نامہ تیزی کیساتھ ایک بھیانک تصادم کی طرف گامزن،ایک نیا عالمی نظام تشکیل پانے کو ، تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جوہری طاقتوں کے درمیان کسی بھی ٹکراؤ کا مطلب قیامت خیز تباہی سے دوچار رہنا ہے ۔بورڈ اسکےعلاوہ کچھ نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ دھونس، دباؤ، طاقت اور سودے بازی سے اپنی دھاک بٹھانے پر مصر ہے ، مکمل طور پر صہیونی اسرائیل کے ہاتھوں کھیل رہا ہے ۔ امریکہ کے ہاتھ سے سَرکتی دنیا کو دوبارہ سے ہتھیانا چاہتا ہے ۔
بنیادی تصور طاقت اور دباؤ کے ذریعے عالمی امن کا حصول ممکن بنانا ہے، قیام امن بذریعہ انصاف، قانون،اخلاقیات نہیں عسکری و معاشی دباؤ،دھونس دھاندلی کے بل بوتے پر حاصل کرنا ہے ۔ کیسا عجیب بورڈ کہ جسکی امریکہ کے اندر قانونی حیثیت نہ ہی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ، نہ امریکی کانگریس سے منظوری اورنہ کسی معاہدے قانون کے تحت وجود میں آیا ۔ ٹرمپ کا ذاتی اسٹاف اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے دنیا کو ہانکنا چاہتا تاکہ ایک فردِ واحد کا ذاتی ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچے۔عالمی سیاسی و دفاعی تجزیہ نگار اور صاحب علم وماہرین،تھنک ٹینکس اس منصوبے کو امن نہیں دھونس دھاندلی بورڈ قرار دے رہے ہیں ۔ دباؤ ڈال کر امن کے لبادے میں موت کا سکوت مسلط کرنا مطلوب ہے ۔ صدر ٹرمپ کیلئے انجمن ستائش باہمی ترتیب دی جا رہی ہے ۔ چنانچہ ہمارے وزیراعظم کو نمایاں عہدہ دینا ہوگا کہ ٹرمپ کی مدح سرائی میں انکو بین الاقوامی اور قومی سطح پرداد و تحسین مل چکی ہے ۔
اسرائیل کیلئے ٹرمپ کا امن بورڈ ایک دم فائدہ مند رہنا ہے کہ دھونس دھاندلی بورڈ نے عالمی قوانین کو مزید روندنا ہے ، فلسطینیوں کی نسل کشی درکار،مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے۔غزہ کیلئے اس منصوبے کا مطلب جنگ بندی نہیں،فلسطینیوں کا مستقل قتل عام ہے۔ فلسطینی ریاست کی ضمانت دور دور تک لاموجود ہے ۔ پاکستان،ترکی، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک جوق در جوق شامل ہوا چاہتے ہیں ، مگر کیا کسی کے پاس انکار کا بھی کوئی اختیار ہے ؟ حقیقت برطرف ، سارے ممالک وقت خریدنے کی تگ و دو میں ،چنانچہ سب نے دانستہ ابہام برقرار رکھا ہے اورشاید ڈنگ ٹپانا ہے ۔ اسحاق ڈار نے تو منصوبے کے اگلے دن یعنی کہ ایجاب و قبول سے پہلے فرما دیاکہ جب تک دو ریاستیں قائم نہیں ہونگی پاکستان امن فوج نہیں بھیجے گا ، یعنی کہ پاکستان نے کچھ شرائط لف کر دی ہیں ۔ وزیرخارجہ کا بھولپن پسند آیا کہ اپنے ہی ہم وطنوں سے دھوکہ دہی کیلئے کل ٹویٹ کی کہ 8 اسلامی ممالک ٹرمپ امن بورڈ میں شامل ہو گئے ہیں ، جس میں پاکستان کو بھی زہر پینا پڑا ہے ۔ حضور ! آپ کے پاس چوائس کیا تھی ؟ سوال اتنا کہ کیا ٹرمپ کا بورڈ آف پیس امن لا سکتا ہے؟ بالکل نہیں کہ یہ بورڈ انصاف پر نہیں بلکہ طاقت پر قائم ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے مسلط کیا گیا امن بالآخر بڑی جنگوں پر منتج ہوتاہے ۔ سوال ایک ہی کہ کیا بورڈ آف پیس امن کا فورم بن جائیگایا طاقت کے مظاہروں کا میدان بنے گا جو دنیا کو ایک نئے بڑے تصادم کی طرف دھکیلنے کا منصوبہ ہوگا ؟یادش بخیر ! 11 ستمبر 2001 کو جب امریکہ کی تاریخ کا بدترین واقعہ رونماہوا اور صدر بش نے 26 ستمبر 2001 کو کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا کو للکارا ،
Either You Are With Us, or You Are Against Us
11 ستمبر کے اگلے دن امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے جنرل پرویز مشرف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور 7 نکاتی مطالبات انکے سامنے ایسے رکھے کہ ہر مطالبے پر سر تسلیم خم رکھنا واجب تھا ۔ یعنی کہ امریکہ نے اتحاد نہیں مانگا تھا ، اطاعت مانگی تھی ۔ پاکستان کا قبول کرنا قومی مفاد نہیں ، امریکہ کے دباؤ سامنے ڈھیر رہنا تھا ۔ علیحدہ بحث کہ اگلے کئی برس ، ملک کے اندر ایک طرف جنرل مشرف پر ہر طرح کا تبرا بھیجا گیا ، طعن و تشنیع جاری رہی تو دوسری طرف جنرل مشرف باقی سارا عرصہ اپنی صفائیاں پیش کرتے رہے ۔ آج کے حکمرانوں کیلئے بھی ٹرمپ امن بورڈ گلے کی ہڈی بنے گا۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو جنرل مشرف کے پاس بپھرے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اس لحاظ سے ہماری افواج داد کی مستحق کہ مشرف کی ہاں کے ازالہ میں اگلے 20 سال امریکہ کو افغانستان میں ناکوں چنے چبوائے رکھے ۔ ہماری ایجنسیوں کا کمال کہ ایک سےزیادہ مرتبہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر امریکہ کو ٹکے ٹوکری کئے رکھا ۔ یقین کامل کہ پاکستان کے پاس آج بھی امن بورڈ کا حصہ بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اگرچہ اسکے عوض حکومت وقت کو ذلت ، خواری اور رسوائی ساتھ ساتھ سمیٹناہے ، بدقسمتی حکومت وقت کا نصیب بنی۔ خصوصاً جب فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے بھیڑیوں کا غول ان پر جھپٹنے کو ہے ۔
مزاحیہ اتنا کہ آج پھر حکومت پاکستان کو اپنے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ اگر ٹرمپ امن بورڈ غزہ ، ایران وغیرہ پر مطلوبہ نتائج اور ایجنڈا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو خاطر جمع آنیوالے دنوں میں کسی نہ کسی موقع پر پاکستان بھی خرچ ہو جائیگا ۔دنیا کا کوئی ملک بدمست بیل کو سرخ کپڑا دکھانے کیلئے تیار نہیں جبکہ سب کو معلوم ہے کہ بیل کانچ کے برتنوں کی دکان میں گھس چکا ہے ۔ 2001 میں جب روس چین سمیت ساری دنیا بِلا چُون و چرا امریکی اسٹامپ پیپرز پر دستخط ثبت کر رہی تھی کہ اس وقت طاقت کا توازن بگڑا ہوا تھا ۔ آج صورتحال مختلف ہے ، میرے کاغذوں میں آج چین ہر مد میں جبکہ روس دفاعی طور پر امریکہ سے برتر ہیں ۔ اسکا مطلب کہ روس اور چین آج اطاعت میں نہیں بلکہ چالاکی سے امریکہ کو دلدل میں دھکیل رہے ہیں ۔ دنیا میں خوفناک حد تک تزویراتی ، سیاسی و جغرافیائی حقیقتیں کروٹ لے چکی ہیں ، پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور کئی نئے اتحاد تشکیل پانے کو ہیں ۔ یقین دلاتا ہوں کہ چین روس نے پاکستان ، ترکی ، سعودی عرب ، ایران سے مل کر اپنا ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے ۔ آنیوالے دنوں میں کئی سرپرائز ملنے کو ہیں اور کئی امریکی تدبیریں الٹی پڑنے کو ہیں ۔ یہ درست ہے کہ امریکہ میں فری لنچ نہیں ہوتا ، اس دفعہ شاید لنچ کا بل پاکستان سے وصول کرنے میں امریکہ کو دشواری ہو ۔
شذرہ ! شہباز شریف کی ٹوپی ! عرصہ دراز سے کمنٹ کرنا تھا کہ بیرونی دورے پر وزیراعظم کے کپڑے خصوصاً ٹوپی کسی طور وزیراعظم پاکستان کے شایان شان نہیں ۔ کاش دفتر خارجہ یا حکومت کرنیوالے سمجھا دیتے کہ اگر ٹوپی کا شوق ہے تو غیرمعمولی ٹوپیوں کو پروموٹ کرنے کی بجائے جناح کیپ پہن لیتے ۔ صدر ضیاء الحق کے بعد عمران خان کو کریڈٹ کہ غیرملکی دورے پر قومی لباس کو پروان چڑھایا ۔ وزیراعظم صاحب ! کبھی کسی بیرونی سربراہ کو پاکستانی دورے پر جناح کیپ میں دیکھا ہے ۔ آپکا غیرملکی ٹوپیاں پہننا قومی ثقافت کی توہین اور بے توقیری ہے بلکہ قومی کمتری کا احساس ہے۔