دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ پر طنزیہ انداز میں تنقید کر دی۔
ایلون مسک ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں ایک پینل کا حصّہ بنے جہاں اُنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اُنہوں نے ہنستے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں نے ایک ’پیس سمٹ‘ کے قیام کے بارے میں سنا تو مجھے لگا یہاں ’Peace (امن)‘ کے بجائے ’Piece (ٹکڑے)‘ کی بات ہو رہی ہے۔
ایلون مسک نے مزید کہا کہ مجھ لگا کہ شاید گرین لینڈ یا وینزویلا کے کسی چھوٹے ٹکڑے کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔
انہوں نے یہ وضاحت دیتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ ویسے ہم سب کو امن ہی چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 جنوری کو اپنی سربراہی میں غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان کیا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
’بورڈ آف پیس‘ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے جو غزہ میں سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کے لیے راہ بھی ہموار کرے گا۔