• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہاوس کی گرین لینڈ سے متعلق ممبہم پوسٹ تنقید کی زد میں

— تصویر سوشل میڈیا
— تصویر سوشل میڈیا

بورڈ آف پیس کے بعد وائٹ ہاوس نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر اپنی توجہ مرکوز کرلی ہے۔

اس بار کسی سیاسی بیانات کے بجائے سوشل میڈیا پر وائرل میم کے ذریعے یہ توجہ حاصل کی۔

وائٹ ہاؤس نے اے آئی سے تیار کردہ ایک تصویر جاری کی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برف پوش پہاڑوں کی جانب ایک پینگوئن کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

امریکی صدر جو ڈنمارک سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش کا کئی بار اظہار کر چکے ہیں، اب سوشل میڈیا پر مقبول ’نہلسٹ پینگوئن‘ میم ٹرینڈ میں شامل ہو گئے ہیں۔

یہ میم گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے زیر گردش ہے اور اس کی بنیاد جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ کی 2007 کی ڈاکیومنٹری Encounters at the End of the World پر ہے۔

اس فوٹیج میں ایک ایڈیلی پینگوئن کو اپنی کالونی سے الگ ہو کر انٹارکٹکا کی وسعتوں میں بھٹکتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ منظر نہلسٹ پینگوئن، تنہا پینگوئن یا بھٹکتا ہوا پینگوئن کے نام سے ایک مشہور میم بن گیا۔

اسی رجحان کو اپناتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں ٹرمپ ایک پینگوئن کے ہمراہ برفانی پہاڑوں کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ تصویر میں پینگوئن کے ہاتھ میں امریکی پرچم ہے، جبکہ پس منظر میں موجود پہاڑوں پر گرین لینڈ کا جھنڈا دکھایا گیا ہے۔

تصویری پوسٹ کے کیپشن میں وائٹ ہاؤس نے لکھا کہ Embrace The Penguin۔

تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اصل ڈاکیومنٹری میں پینگوئن گرین لینڈ کی طرف نہیں جا رہا تھا بلکہ وہ اپنی کالونی اور سمندر سے دور، مزید انٹارکٹکا کی جانب بھٹک رہا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا، کیونکہ تصویر میں دکھایا گیا پینگوئن آرکٹک میں پایا ہی نہیں جاتا۔ متعدد صارفین نے اس حقائق کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے پوسٹ کو شرمناک قرار دیا۔

دی گارڈین کی صحافی پِپا کریرا نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ آرکٹک میں پینگوئن نہیں پائے جاتے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ اور ان کے قدم انسان جتنے بڑے یا چلنے کا انداز ایسا نہیں ہوتا، یہ واقعی شرمناک ہے کہ انہوں نے یہ پوسٹ شیئر کی۔

ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ اچھی کوشش، لیکن گرین لینڈ میں پینگوئن نہیں ہوتے۔

برطانوی کابینہ آفس کے چیف ماؤزر کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’فکیٹ چیک: پینگوئن سدرن ہیمی اسفیئر میں پائے جاتے ہیں۔‘

بین الاقوامی خبریں سے مزید