بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات سے بچانے کے لیے متحدہ عرب امارات میں نیا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون نافذ کر دیا گیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اماراتی حکام نے نئے قوانین کے حوالے سے بتایا ہے کہ عرب امارات میں 60 فیصد بچے نامناسب مواد کا سامنا کر چکے ہیں، بچوں کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن گیمز کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
اماراتی نئے قانون کے ضوابط میں والدین کی ذمہ داری صرف مشورے تک محدود نہیں رہی بلکہ قانونی فریضہ ہوگی اور بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی قانونی ذمہ داری والدین پر عائد ہوگی۔
اماراتی حکام نے والدین سے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی درخواست کی ہے، والدین کے فرائض میں شامل ہوگا کہ وہ بچوں کے موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ پر نظر رکھیں، خطرناک مواد سے بچائیں، بچوں کو آن لائن تشدد، بلیک میلنگ، فراڈ اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ بنائیں۔
حکام نے مزید بتایا ہے کہ اب بچوں کے اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔
ڈیجیٹل کمپنیاں بھی سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوں گی، انٹرنیٹ کے سرچ انجنز اور اسٹریمنگ سروسز کو بھی بچوں کے لیے مکمل محفوظ بنانا ہوگا۔
عرب امارات سے باہر ڈیجیٹل کمپنیاں بھی محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔
نئے اماراتی قوانین میں سخت پروٹوکولز پر مشتمل ہے، ڈیجیٹل مواد کی فلٹرنگ، پیرنٹل کنٹرول، اشتہارات پر پابندی اور اسکرین ٹائم کی حد لازمی بنائی گئی ہے۔
عرب امارات میں 4 ہزار سے زائد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی جاری ہے۔