• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاش اس وقت میں نے اپنا گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا: ترنم ناز

— اسکرین گریب
— اسکرین گریب

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ماضی کی مقبول گلوکارہ ترنم ناز کا کہنا ہے کہ اپنا گھر بچوں کے نام منتقل کرنا زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہے، ہمیشہ اس پر افسوس رہے گا۔

حال ہی میں گلوکارہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی اور مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

دورانِ انٹرویو انہوں نے اپنی زندگی کے غم گین لمحے سے پردہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت محنت سے اپنا گھر زمین خرید کر بنایا، بعد ازاں اس کی ملکیت بچوں کے نام کر دی۔

ترنم ناز کے مطابق اُس وقت بچے کم عمر تھے اور انہیں یہ گمان تھا کہ بچے گھر کے معاملے میں لالچ نہیں کریں گے، کیونکہ ان کی نظر میں بچوں کی ملکیت ہی ان کی اپنی ملکیت تھی۔ تاہم، جب بچے بڑے ہوئے اور شادی ہو گئی تو انہوں نے وراثت میں اپنا حصہ طلب کرنا شروع کر دیا، جو انہیں دینا پڑا۔

ترنم ناز نے کہا کہ اب میں اس بات پر بہت افسوس کرتی ہوں کہ کاش اس وقت میں نے اپنا گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا، اپنے نام پر رکھا ہوتا تو آج بچے تابع دار ہوتے۔ ابھی بھی بچے تابع دار ہیں، خدمت کرتے ہیں لیکن جب اپنے نام گھر ہو تو اس کی الگ بات ہوتی ہے۔ یہ غم مجھے ساری زندگی رہے گا۔ اسے بھلا نہیں سکتی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بچوں کے نام گھر کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا غلط فیصلہ تھا۔

واضح رہے کہ ترنم ناز پاکستان کی نامور غزل اور کلاسیکل گلوکارہ ہیں، جو اپنی جاندار آواز اور پی ٹی وی کے مقبول کلاسیکل گانوں کی بدولت شہرت رکھتی ہیں۔ وہ باقاعدہ طور پر کلاسیکی موسیقی کی تربیت یافتہ ہیں اور انہیں استاد عاشق حسین کی شاگردی کا اعزاز حاصل رہا۔

ان کی آواز اور انداز کو لیجنڈری گلوکارہ میڈم نور جہاں سے مشابہت کے باعث بھی سراہا جاتا ہے۔ سینئر فنکارہ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ان دنوں ترنم ناز گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید