• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عظیم اہرامِ مصر کیسے تعمیر کیے گئے؟ سائنسدانوں کا نیا دعویٰ سامنے آگیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

مصر کے عظیم اہرام کی تعمیر صدیوں سے ماہرین کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے چونکا دینے والا نظریہ پیش کیا ہے۔

غیر ملکی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق اہرامِ مصر کی تعمیر ممکنہ طور پر رسی، چرخی اور وزنی پتھروں (کاؤنٹر ویٹ) کے نظام سے کی گئی۔ 

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیسن سے وابستہ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر سائمن اینڈریاس شیورنگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ ناصرف عملی طور پر ممکن ہے بلکہ اس سے اہرام کی تیز رفتار تعمیر کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اہرام میں تقریباً 23 لاکھ چونے کے پتھر استعمال ہوئے جن میں سے بعض کا وزن دو ٹن جبکہ کچھ کا وزن 60 ٹن سے زائد تھا۔ 

اندازوں کے مطابق اہرام کی تعمیر 20 سال میں مکمل ہوئی اور اوسطاً ہر ایک منٹ میں ایک پتھر نصب کیا گیا۔

ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اہرام کو باہر سے اوپر کی طرف ریمپ کے ذریعے بنایا گیا تاہم محققین کے مطابق اس طریقے سے اتنے بھاری پتھروں کو بلندی تک پہنچانا ممکن نہیں تھا۔

نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اہرام کی تعمیر اندر سے باہر کی جانب کی گئی جہاں اندرونی ڈھلوان راستوں پر وزنی پتھروں کو بطور کاؤنٹر ویٹ استعمال کر کے بڑے پتھروں کو اوپر اٹھایا جاتا تھا۔

ماہرین نے اہرام کے اندر موجود گرینڈ گیلری اور دیگر راستوں کے جائزوں سے بتایا ہے کہ وہاں دیواروں پر موجود ہموار نشانات انسانی آمدورفت نہیں بلکہ پتھر کھینچنے والی ’سلوپ اور پلی‘ (slop and pulley system) کی حرکت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تحقیق میں اہرام کے ایک چھوٹے کمرے ’اینٹی چیمبر‘ کے بارے میں بھی نیا مؤقف پیش کیا گیا ہے جسے پہلے قبر کی حفاظت کے لیے بنایا گیا حصار سمجھا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو اہرامِ مصر کی تعمیر کے بارے میں ہماری سمجھ یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید