• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے زیادہ تر مسافر طیارے سفید، مگر ایئر نیوزی لینڈ کے جہاز سیاہ کیوں ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

اگر آپ کسی ہوائی اڈے پر طیاروں کو دیکھیں تو ایک بات یقینی طور پر ذہن میں آتی ہے کہ دنیا بھر کی زیادہ تر کمرشل ایئر لائنز کے جہاز سفید رنگ کے ہیں، اس کی وجہ خوبصورتی نہیں بلکہ لاگت، حفاظت اور کارکردگی ہے۔ 

ماہرینِ ایوی ایشن کے مطابق سفید رنگ دھوپ کو منعکس کرتا ہے جس سے جہاز کم گرم ہوتا ہے، اس کی ایئر کنڈیشننگ پر کم دباؤ پڑتا ہے اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سفید پینٹ ہلکا ہوتا ہے، اس پر دراڑیں، زنگ اور تکنیکی خرابیاں آسانی سے نظر آ جاتی ہیں جبکہ یہ تیز دھوپ اور الٹرا وائلٹ شعاعوں میں بھی دیر تک خراب نہیں ہوتا۔ 

اسی لیے 1970ء کی دہائی کے بعد سے طیاروں کا سفید رنگ عالمی معیار بن چکا ہے۔

لیکن ان تمام وجوہات کے باوجود نیوزی لینڈ کی قومی ایئر لائن ایئر نیوزی لینڈ نے ایک مختلف راستہ اپنایا ہے۔

2007ء میں ایئر نیوزی لینڈ نے پہلی بار اپنا ایک بوئنگ 777 مکمل سیاہ رنگ میں متعارف کروایا جس کا مقصد نیوزی لینڈ کی مشہور رگبی ٹیم آل بلیکس کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

یہ تجربہ وقتی نہیں رہا بلکہ ایئر نیوزی لینڈ کی پہچان بن گیا، آج ایئر نیوزی لینڈ کے بیڑے میں مختلف طیاروں پر سیاہ رنگ کی نمایاں جھلک موجود ہے۔

نیوزی لینڈ کی ایئر لائن کے مطابق اس وقت اس کے پاس 115 طیارے ہیں اور مزید 12 طیارے بنائے جا رہے ہیں۔

ایئر نیوزی لینڈ کا بوئنگ 777-300ER دنیا کا سب سے بڑا مکمل سیاہ رنگ میں اڑنے والا کمرشل طیارہ مانا جاتا ہے، اگست 2022ء میں ایئر لائن نے ایئر بس A321neo کو بھی مکمل سیاہ رنگ میں متعارف کروایا جو اسٹار الائنس کا پہلا سیاہ طیارہ تھا۔

ایئر نیوزی لینڈ کے حکام کے مطابق سیاہ رنگ سے طیارے کی کارکردگی یا حفاظت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

ایئر لائن کا کہنا ہے کہ رنگ کا بنیادی مقصد جہاز کو تحفظ دینا ہوتا ہے اور عملی طور پر سفید اور سیاہ طیاروں میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا ہے۔

ایئر نیوزی لینڈ کے لیے سیاہ رنگ صرف ڈیزائن نہیں بلکہ قومی شناخت ہے۔

ایئر لائن کے مطابق سیاہ رنگ نیوزی لینڈ کی ثقافت، کھیلوں اور عوامی فخر کی علامت ہے جو دنیا بھر میں ملک کو منفرد پہچان دیتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید