ماسکو کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے نیورو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔
روسی سائنسدان ایسے سائبورگ کبوتروں پر کام کر رہے ہیں جنہیں خفیہ نگرانی یا ممکنہ طور پر جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
2025ء کے اواخر میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق PJN-1 کے کوڈ نام سے جاری اس منصوبے کے تحت کبوتروں کے دماغ میں نیورل چپس اور کھوپڑی میں باریک الیکٹروڈز نصب کیے جا رہے ہیں، سینوں پر کیمرے باندھے جا رہے ہیں اور پرواز کے راستے کو دور بیٹھے آپریٹرز کنٹرول کر رہے ہیں۔
روسی سائنسدانوں نے روسی دارالحکومت ماسکو میں ایسے ہی کنٹرول شدہ پرواز پروگرام کے تحت تجربات کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔
کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سائبورگ کبوتر روزانہ 300 میل تک پرواز کر سکتے ہیں، اپنی برداشت اور مشکل مقامات تک رسائی کی صلاحیت کے باعث بغیر بیٹری کے روایتی ڈرونز سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تجربے سے خفیہ نگرانی اور جنگی استعمال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کمپنی کے مطابق پرندوں نے پہلے سے طے شدہ راستوں پر پرواز کی اور حکم ملنے پر واپس بیس پر لوٹ آئے۔
سائنسدانوں کے مطابق کبوتروں کی کھوپڑی میں نصب باریک الیکٹروڈز ان کے سر پر لگے ایک محرک (اسٹیمولیٹر) سے منسلک ہوتے ہیں، جس کے ذریعے آپریٹرز ریموٹ کنٹرول سے انہیں بائیں یا دائیں موڑ سکتے ہیں، سولر توانائی سے چلنے والا ایک ہلکا بیگ فلائٹ کنٹرولر پر مشتمل ہوتا ہے اور پرندے کے سینے پر نصب کیمرے سے منسلک رہتا ہے۔
یہ پیش رفت حیاتیات اور روبوٹکس کے درمیان حد کو دھندلا کرتے ہوئے حیوان اور مشین کے امتزاج کی جانب ایک غیر معمولی قدم قرار دی جا رہی ہے۔
اگرچہ کمپنی اس منصوبے کو شہری انفرااسٹرکچر کی نگرانی کے ایک آلے کے طور پر پیش کر رہی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو آسانی سے عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔