کئی دہائیوں سے مشہور اینی میٹڈ شو ’دی سمپسنز‘ کو مستقبل کی پیشگوئیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے، اسمارٹ واچ، ویڈیو کالز اور ایک بزنس مین کے امریکی صدر بننے تک ناظرین ماضی کی اقساط کو موجودہ واقعات سے جوڑتے رہے ہیں۔
اب ایک بار پھر یہ شو ’ایپسٹین فائلز‘ کے تناظر میں خبروں میں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دی سمپسنز نے برسوں پہلے جیفری ایپسٹین اور اس کے مبینہ خفیہ جزیرے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب شو کے خالق میٹ گروننگ کا نام ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات میں سامنے آیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 2019ء میں غیر مہر شدہ عدالتی دستاویزات میں ایپسٹین کیس کی مدعی ورجینیا جیفری نے بتایا کہ اُنہوں نے 16 سال کی عمر میں ایپسٹین کے نجی طیارے میں میٹ گروننگ کو مختصر فلائٹ کے دوران پاؤں کی مساج دی تھی، ورجیننا نے میٹ گروننگ کو مہذب قرار دیتے ہوئے ان پر کسی قسم کی بدسلوکی کا الزام نہیں لگایا تھا۔
2026ء میں امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں سے ایک میں میٹ گروننگ کا نام ایک غیر رسمی ای میل میں آیا ہے جس میں انہیں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس سے متعارف کروانے کا ذکر تھا تاکہ ممکنہ طور پر دی سمپسنز میں کیمیو کیا جا سکے۔
بحث کا مرکز دی سمپسنز کی 2000ء میں نشر ہونے والی قسط The Computer Wore Menace Shoes ہے جس میں ہومر کو ایک پراسرار جزیرے پر لے جایا جاتا ہے جہاں طاقتور لوگ دنیا کو خفیہ طور پر کنٹرول کرتے دکھائے گئے ہیں۔
قسط کے مکالمات جیسے ’کوئی اس جزیرے سے کوئی واپس نہیں جاتا‘ اور ’کچھ عجیب لوگ ایک جزیرے سے پوری دنیا چلا رہے ہیں‘ وائرل ہو چکے ہیں۔
آن لائن صارفین اس جزیرے کو ایپسٹین کے لٹل سینٹ جیمز اور گریٹ سینٹ جیمز جزائر سے جوڑ رہے ہیں جہاں ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے الزامات تھے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019ء میں نیویارک کی جیل میں قید میں ہلاک ہو گیا تھا۔
ایک اور وائرل کلپ میں دی سمپسنز کی ایک پرانی قسط میں لیزا کو اسٹیفن ہاکنگ کی گود میں بیٹھا دکھایا گیا ہے، چونکہ ہاکنگ کا نام بھی ایپسٹین سے متعلق کچھ دستاویزات میں آیا تھا اس لیے اس منظر کو بھی بعض افراد نے ’پیشگوئی‘ قرار دیا ہے حالانکہ کہانی کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
واضح رہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ دی سمپسنز کی کہانیاں جیفری ایپسٹین کی سرگرمیوں پر مبنی تھیں یا شو کے تخلیق کاروں کو کسی قسم کی اندرونی معلومات حاصل تھیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق، طویل عرصے تک چلنے والے شو کی وسعت، یا حالاتِ حاضرہ پر سماجی طنز کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔