گوگل نے اپنے کچھ کاروباری شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکج (VEP) کی پیشکش کی ہے، یہ پیشکش اُن ملازمین کے لیے ہے جو کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے نئے وژن اور تیز رفتار کام کے ماحول کو مکمل طور پر اپنانے کے لیے تیار نہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گوگل کے چیف بزنس آفیسر فلپ شِنڈلر نے ایک ای میل میں بتایا ہے کہ گلوبل بزنس آرگنائزیشن (GBO) سے وابستہ بعض ٹیموں کے ملازمین اگر کمپنی چھوڑنا چاہیں تو انہیں پیکج کے ساتھ جانے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں گوگل کی کامیابی کے لیے اے آئی کو اپنانا ناگزیر ہے اور تمام ملازمین کو اس مشن کے لیے ’آل اِن‘ ہونا ہوگا۔
ای میل کے مطابق اگر کوئی ملازم موجودہ کام کی رفتار سے مطمئن نہیں یا آگے بڑھنا چاہتا ہے تو وہ اس بائے آؤٹ آپشن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سلوشنز ٹیمز، سیلز، کارپوریٹ ڈیولپمنٹ اور چند دیگر شعبے اس پروگرام میں شامل ہیں تاہم کسٹمر سیلز اور براہِ راست صارفین سے وابستہ ٹیمیں اس پیشکش کا حصہ نہیں ہوں گی تاکہ صارفین کو کم سے کم متاثر کیا جا سکے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ سیورنس پیکج کی رقم کتنی ہوگی تاہم گزشتہ سال گوگل نے بعض ملازمین کو کم از کم 14 ہفتوں کی تنخواہ اور ہر مکمل سروس سال کے بدلے ایک اضافی ہفتے کی تنخواہ کی پیشکش کی تھی۔
واضح رہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں جاری چھانٹیوں کے دوران ملازمین کو رضاکارانہ بائے آؤٹ دینا کمپنیوں کے لیے بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
گوگل اس سے قبل بھی مختلف شعبوں میں ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش کر چکا ہے جن میں نالج اینڈ انفارمیشن، انجینئرنگ اور یوٹیوب شامل ہیں۔