عراق میں ایرانی حمایتی تنظیم، کتائب حزب اللّٰہ (حزب اللّٰہ کی ایک بریگیڈ) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں مکمل جنگ چھڑ جائے گی۔
کتائب حزب اللّٰہ تنظیم کے سربراہ ابو حسین الحمیداوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ دشمنوں کے لیے ’پارک میں چہل قدمی کرنے جتنی آسان ثابت نہیں ہوگی۔‘
الحمیداوی نے مزید کہا کہ اگر تنازع شروع کیا گیا تو محورِ مزاحمت (Axis of Resistance) میں شامل تمام گروہ ایران کی بھرپور مدد کریں گے۔
ان کے مطابق دشمنوں کو خطے میں ’بدترین انجام‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کتائب حزب اللّٰہ تنظیم کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور خلیج میں طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے عراق پر زور دیا کہ وہ ایران سے فاصلہ رکھے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کے زیرِ اثر حکومت عراق کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کو سخت پیغامات دیتے اور کہا تھا کہ امریکا ایران پر ’قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے‘ تاہم بعد میں انہوں نے حملے کے حوالے سے زبان نرم کر لی تھی۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اگر اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت فوجی جواب دیا جائے گا۔