عرب میڈیا کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود شمالی غزہ کے شہر بیت حانون میں گھروں اور زرعی زمین کو منظم طریقے سے مسمار کیا۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ڈیجیٹل انویسٹی گیوٹیو ٹیم نے 8 اکتوبر (سیز فائر کے دو دن بعد) سے 8 جنوری کے درمیان سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ اسرائیلی بلڈوزز کے ذریعے تقریباً 4 لاکھ 8 ہزار مربع میٹر رقبہ صاف کیا گیا، جس میں کم از کم 329 گھروں کے ملبے اور زرعی علاقے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے بعد اگرچہ کئی عمارتیں متاثر تھیں لیکن مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی تھیں تاہم سیزفائر کے بعد دسمبر کے وسط تک بیشتر عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس کر دی گئیں اور سرسبز زمین ایک ویران میدان میں بدل گئی۔
بڑے پیمانے پر یہ مسماری بیت حانون کے اس حصے میں کی گئی جو اسرائیلی سرحد اور قریبی بستی سدیروت کے سامنے واقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر تک غزہ میں 81 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی تھیں جبکہ شمالی غزہ، خصوصاً شہر بیت حانون سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے علاقوں میں شامل ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دائیں بازو کے رہنما کھلے عام غزہ میں دوبارہ یہودی آبادکاری کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ دسمبر 2024ء میں اسرائیلی وزراء اور ارکانِ پارلیمان نے سدیروت سے بیت حانون اور بیت لاہیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 800 سے زائد یہودی خاندان وہاں بسنے کے لیے تیار ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے شمالی غزہ میں زرعی و فوجی اڈے قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل غزہ سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز کے مطابق جنگ کی آڑ میں میں اسرائیل غزہ کو تباہ، فلسطینیوں کو بے دخل اور علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیل نے کم از کم 1300 مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے جن میں شہریوں پر فائرنگ اور بمباری کے واقعات شامل ہیں۔