• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مملکت کا بحرانی مسئلہ فقط ایک ہی ’عمران خان‘ آج پوری ریاست عمران خان سیاست کی یرغمال ہے۔ اپنا عقیدہ پرانا اور مسلمہ کہ قوموں ملکوں کے عروج و زوال کی کہانی با لترتیب سیاسی استحکام اور سیاسی عدم استحکام سے جُڑی ہے ۔ تین ہزار سالہ Documented تاریخ، دونوں خانوں میں ایسی سینکڑوں مثالوں سے مزین ہے ۔

سالہا سال کی تکرار کیساتھ درجنوں مثالیں اسی صفحے میں درج کیں کہ ریاست پاکستان کا عدم استحکام ایک موذی مرض بن چکا ہے۔ اقتصادی یا معاشرتی سب بحرانوں نے سیاسی عدم استحکام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ دوبارہ دہراؤں گا کہ کھربوں ڈالر کے وسائل پر بیٹھے دو ممالک، وینزویلا اور نائیجیریا ،سیاسی عدم استحکام بنا افراتفری انارکی کی دہلیز ٹاپ چکے ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے اقتصادی طور پر مضبوط G20میں ایک ہی چیز مشترک، ’سیاسی استحکام ‘۔

ماضی میں جھانک کر اقتصادی ترقیاتی شرح نمو پر نظر ڈالتا ہوں تو 1960ءسے 1968ءتک ہم نے اقتصادی ترقیاتی عالمی ریکارڈ قائم کئے ، بالترتیب 9.6فیصد ( 1960ء) ، 6فیصد ( 1961ء) ، 9فیصد ( 1962ء) ، 8.5فیصد ( 1963ء) ، 10.5 فیصد ( 1964ء) ، 11 فیصد ( 1965ء) ، 5.9 فیصد ( 1966ء) ، 5.7 فیصد ( 1967ء) ، 7.5 فیصد ( 1968ء) ، 6.1 فیصد ( 1969ء) ، 11.5فیصد ( 1970ء) ، ایسے وقت جب ملک خوشحال ، 10 سالہ ترقیاتی جشن منایا جا رہے تھے ، ایوب خان کو دھکے مار کر اقتدار سے نکال باہر کیا ۔ سیاسی عدم استحکام اس قدر گھمبیر کہ مملکت کو دولخت کر گیا ۔

جنرل ایوب خان کا نام قومی تاریخ میں ناقابلِ ذکر TABOO بن گیا ۔ 1951ءکے شب خون ( راولپنڈی سازش کیس ) سے لیکر 2025ءتک ، دائروں کا سفر ہے کہ نہ ختم ہونے کو ۔ ہم نے نظاموں پر کونسا ہنر ہے جو نہ آزمایا ؟ ہر نظام کی ایک شیلف لائف ، EXPIRY DATE لیکر آیا ۔ چند ہفتے پہلے لائیو پروگرام میں برادرم کامران شاہد نے مجھے تسلی دی کہ’’ پریشان نہ ہوں ، 2030 تک موجودہ نظام کو کچھ نہیں ہو گا ‘‘۔ میرا جواب’’ یقینا کچھ نہیں ہوگا ، شاید 2035ءتک کچھ نہ ہو مگر یہ بتائیں کہ جب 2031ءآئے گا تو کیا ہم پھر کسی نئے تجربہ کی نذر ہونگے ؟ بتانا ہوگا کہ 2031ءکا پاکستان کیسا ہوگا ؟ کیا 1970 سے مختلف ؟‘‘

قومی بدنصیبی کہ 1953ءسے شروعات ، محمد علی بوگرا تا شہباز شریف ، مجال ہے ایک وزیراعظم جو طاقتوروں کی مرضی کے بغیر برسرِ اقتدار آیا ہو ۔ ویسے تو درجن بھر نام مگر محمد علی بوگرا ( 1955ء) ، ذوالفقار علی بھٹو ( 1977ء) ، نواز شریف (1993ء) ، عمران خان (2022ء) کو شد و مد سے اقتدار سونپا گیا تو کیا وجہ کہ بے آبرو کرکے اقتدار سے فارغ کیا گیا ۔ ان سب میں ایک بات مشترک کہ اپنے آپکو حقی سچی وزیراعظم سمجھ بیٹھے تھے ۔ حتمی رائے کہ وزرائے اعظموں کے بارے 1953ءسے رہنما اصول متعین ہیں ، مقتدرہ شد و مد سے کاربند ہے ۔

مثال کے طورپر ایک وزیراعظم کی حالت زار سامنے لانی ہے ۔ نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو اسٹیبلشمنٹ سے ٹھن گئی ، آج تک معافی نہ ملی ۔ اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد سے آخر تک بحیثیت وزیراعظم گاہے بگاہے بے توقیر ی کا سامنا رہا۔ حیرت نہ ہوئی کہ جب جنرل بیگ کی جگہ جنرل آصف نواز سربراہ بنے تو وزیراعظم کا کمتر اسٹیٹس برقرار رکھا گیا۔ یہاں تک کہ جنرل آصف دل کا دورہ پڑنے پر وفات پاگئے تو نواز شریف پر قتل کا الزام لگا دیا گیا ۔ 1997 میں جب نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آئے تو جنرل جہانگیر کرامت نے بھی کوئی کنجوسی نہ دکھائی اور جب نواز شریف نے HAND PICKED جنرل مشرف کو چیف بنایا تو اسکے ہاتھوں پھانسی لگنے سے بال بال بچے ۔ 2013میں نواز شریف تیسری دفعہ اقتدار میں آئے تو مبارک ہاتھوں سے جنرل راحیل کو چیف بنایا مگر 11 ماہ بعد ریاست بچانے کیلئے عمران خان اور علامہ قادری بھرتی کئے گئے کہ نوازشریف کا مکو ٹھپا جا سکے ۔

جنرل باجوہ کو محنت مشقت سے ڈھونڈا تو چند ماہ بعد مارچ 2017 میں استعفیٰ مانگ لیا گیا ، کیسے سمجھاؤں کہ فیصلے ادارتی تھے ۔ 1951 سے سول ملٹری تعلقات میں جو باہمی اعتماد کی دراڑ پڑی ، ادارے کا مرکزی خیال بن چکی ہے ۔ درجنوں وزرائے اعظم راندہ درگاہ بنے، کسی ایک کا بوجھ خالی سربراہ پر ڈالنا درست نہیں ۔ 2014 کا دھرنا جنرل راحیل کی کارستانی نہ ہی عمران خان کو موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار چھینا ۔ ہاں اتنا ضرور کہ ادارتی فیصلوں کو عسکری قیادت نے OWN ضرور کیا ۔ چنانچہ 2016 میں طاقتوروںکی پشت پناہی کے بل بوتے عمران خان کا لاک ڈائون جاری تھا تو میاں صاحب کے گوش گزار کیا کہ ’’اگرچہ جنرل راحیل آپکا کچھ نہیں بگاڑ پائیگا ، خاطر جمع جو بھی اگلا آرمی چیف بنے گا ، ادارتی فیصلوں کا تسلسل جاری رہنا ہے ۔‘‘

27 اکتوبر کو جب لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور میجر جنرل افتخار بابر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی تو یہی پیغام پہنچایا کہ ’’عمران خان کو نکالنے کا فیصلہ مارچ 2021 ءمیں کر لیا گیا تھا اور یہ فیصلہ اگلے 18سال تک ، یعنی کہ 2040ءتک نافذالعمل رہے گا ‘‘۔ تحریک انصاف کے نزاری اسماعیلی ( HASHSHASHINS ) کو کون سمجھائے کہ 29نومبر جنرل باجوہ تیسری ٹرم لیتے یا جنرل فیض حمید یا جنرل ساحر شمشاد کوئی بھی بن جاتا ، کسی نے بھی عمران خان کی صحت کے موافق نہیں بیٹھنا تھا ۔ کیونکہ عمران خان کا مکو ٹھپنے کا فیصلہ ادارتی تھا اور 20سال نافذ رہنا ہے ۔ بُری خبر ! 2035ءکے بعد بھی جو آئیگا وہیں سے شروع کرے گا جہاں پہلے والے چھوڑ کر گئے ہیں ،ہاں اگر کوئی انہونی نہ ہو پائے ۔ دلچسپ پہلو اتناکہ عمران خان کی مقبولیت اور اسٹیبلشمنٹ کی قبولیت کا راز دونوں فریقوں کی پُراعتمادی غلطیوں پر قائم ہے ۔ عمران خان کی سیاسی حماقتوں نے اسٹیبلشمنٹ کی گزراوقات کو چار چاند لگا رکھے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے بلنڈرز سے عمران خان کا دال دلیا چل رہا ہے ۔

3 سال کا حاصل کلام کہ عمران خان کی مقبولیت کا مقتدرہ پر کوئی دباؤ نہیں ، البتہ موجودہ سیاسی تناؤ سے ریاست ہلکان ہوا چاہتی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد ان سے مزید غلطیاں کروانے پر تُلا ہے ۔ چار خواہشات اُمڈ اُمڈ کر مقتدرہ کے اعصاب پر سوار ہیں ۔ (1) عمران خان کی سیاست کو پہلے ابدی نیند سلایا جائے۔( 2) پیپلز پارٹی کو نہروں ، NFC صوبوں پر تعاون نہ کرنے پر نشان عبرت بنایا جائے۔ ( 3) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بعض انتظامی معاملات اور مکمل طور پر لا اینڈ آرڈر پر ادارے کے بہترین دماغوں کو بٹھایا جائے ۔ ( 4) جب یہ لاٹھی میری ہے ، نام میرا خراب ہورہا ہے تو پھر بھینس کے حقوق ملکیت بھی کُلی میرے ۔ چار خواہشیں کہ ہر خواہش پر دم نکلنے کو ، اگلے چند مہینے میں حتمی نتیجہ سامنے ہوگا ۔

تازہ ترین