آلو کی گرتی قیمتوں کے باعث کاشت کار پر یشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آلو کی فصل پر 3 لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت آتی ہے لیکن اب کوئی 50 ہزار روپے میں بھی لینے کو تیار نہیں ہے۔
کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زراعت گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی ہے اور اب کسی بھی فصل کی پیداواری لاگت پوری کرنا دشوار ہے۔
کاشت کاروں نے بتایا ہے کہ سارا منافع مڈل مین لے جاتے تھے مگر اس بار آلو کی گرتی قیمتوں نے کاشت کاروں کے ساتھ مڈل مین کے بھی چودہ طبق روشن کر دیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈھائی سے 3 لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کے 50 ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
کاشت کاروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ فصل میں گھاٹے کی وجہ سے نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔