• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: ٹرمپ کی امیگریشن کارروائیوں کیخلاف ملک گیر ہڑتال جاری، شہریوں کا شدید احتجاج

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکا بھر میں امیگریشن حکام کی سخت کارروائیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔

مظاہرین نے ’نہ کام، نہ اسکول، نہ خریداری‘ کی اپیل کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

امریکا میں جاری ہڑتال کی کال امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں 2 امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد دی گئی تھی جس کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس رکن الہان عمر سمیت کئی منتخب نمائندوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی، ایریزونا، کولوراڈو، مشی گن، اٹلانٹا اور پورٹ لینڈ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے اور طلبہ کی جانب سے واک آؤٹ کیا گیا جبکہ بعض ریاستوں میں اسکول بند رہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے 37 سالہ الیکس پریٹی کی ہلاکت پر شہری حقوق کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم 37 سالہ رینی نکول گُڈ کی ہلاکت پر تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔

امریکی حکام کے مطابق پریٹی کی ہلاکت کی مکمل چھان بین اب ایف بی آئی کرے گی۔

ابتدائی طور پر حکومتی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ پریٹی نے اسلحہ لہرایا تھا تاہم بعد میں اس واقعے پر کئی پر سوالات اٹھے گئے۔

دوسری جانب نکول گُڈ کو ابتداء میں ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا مگر بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیجز کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ وہ موقع سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عوامی دباؤ حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

افریقی نژاد امریکی ماہرِ قانون و پروفیسر ڈچس ہیرس کے مطابق امریکی تاریخ میں اصلاحات اکثر مزاحمت کے بعد ہی ممکن ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید