• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیگریشن افسر کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت، امریکا بھر میں احتجاج کی لہر

منیاپولس (اے ایف پی) امیگریشن افسر کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت، امریکا بھر میں احتجاج کی لہر،مظاہرین وفاقی حکام اور ICE کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، احتجاجی تنظیموں کا ایک ہزارسے زائد مظاہروں کا اعلان، ٹرمپ انتظامیہ نے 37سالہ خاتون رینی گوڈ کو ’ملکی دہشت گرد‘ قرار دینے اور افسر کے اپنا دفاع کرنے کے دعوے کیے۔منیاپولس میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک افسر کی جانب سے 37سالہ رینی گوڈ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے بعد امریکا بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں مظاہرین وفاقی حکام اور ICE کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مقامی حکام نے وفاقی اداروں پر تحقیقات میں ان کو شامل نہ کرنے اور شواہد فراہم نہ کرنے کی سخت تنقید کی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے گوڈ کو ’ملکی دہشت گرد‘ قرار دینے اور افسر کے خود دفاع کے دعوے کیے۔ ویڈیو فوٹیج میں واقعے کی کچھ جھلک دکھائی گئی، لیکن مکمل حالات واضح نہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران وفاقی افسران اور مظاہرین کے درمیان مرچ گولہ اور آنسو گیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا، اور ACLU سمیت کئی سول سوسائٹی گروپس نے ہفتے اور اتوار کو مزید احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ مقامی حکام وفاقی اقدامات پر غصہ ہیں اور شفاف، مکمل تحقیقات کے مطالبے پر زور دے رہے ہیں۔دوسری جانب منیاپولس میں امریکی امیگریشن پولیس کے سخت اقدامات اور حالیہ مہلک فائرنگ کے بعد پڑوسی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے کمیونٹی کی حفاظت کر رہے ہیں، جہاں رضاکار بچوں کو بس اسٹاپ تک لے جانے، اسکول پہنچانے اور خاندانوں کے لیے خوراک کی فراہمی جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔ 

اہم خبریں سے مزید