بھارتی ریاست اتر پردیش میں 9 سالہ محبت شادی کے چند ہفتوں بعد ہی دم توڑ گئی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے شہر بریلی کے علاقے عزت نگر میں کرائے کے مکان میں ایک 33 سالہ شہری جتیندر کمار یادو کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔
ابتدائی طور پر ایسا لگا کہ جتیندر نے خودکشی کی ہے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ اسے گلا دبا کر مارا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ جتیندر اور جیوتی پچھلے 9 سال سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور گزشتہ سال 25 نومبر کو ان دونوں کی شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق پیسوں کی وجہ سے شادی کے چند ہفتوں بعد ہی ان دونوں کے تعلقات میں تلخی آنے لگی۔
پولیس نے بتایا ہے کہ جتیندر نے جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکالے اور ساری رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا اور اسی وجہ سے ان کے درمیان بار بار جھگڑا ہونا شروع ہو گیا۔
پولیس کے مطابق 26 جنوری کو جب جیوتی نے جتیندر سے پیسوں کے بارے میں پوچھا تو دونوں کے درمیان لڑائی ہو گئی اور جب جھگڑا بڑھ گیا تو جیوتی نے اپنے والدین اور بھائی کو اپنے گھر پر بلا لیا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ جیوتی کے والد، والدہ اور بھائی اس کے گھر پہنچے تو جھگڑے کے دوران جیوتی کے والدین اور بھائی نے جتیندر کو بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑا اور جیوتی نے اس کا گلا دبا کر اسے مار دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جتیندر کو مارنے کے بعد جیوتی کے والد اور بھائی نے اس کی لاش کو مفلر سے باندھ کر کھڑکی کی گرل سے لٹکا دیا تاکہ قتل کو خودکشی ثابت کیا جا سکے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ جیوتی کے والد اور بھائی نے لاش کو کھڑکی کی گرل سے لٹکانے کے بعد پڑوسیوں کی بیل بجا کر اُنہیں یہ بتایا کہ جتیندر نے خودکشی کر لی ہے۔
ابتدائی طور پر پولیس نے بھی اسے خودکشی کا معاملہ ہی سمجھا لیکن جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے جیوتی، اس کے والدین اور بھائی کے خلاف مقدمہ درج کروایا تو پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا تو یہ تہلکا خیز انکشاف ہوا کہ جتیندر نے خودکشی نہیں کی بلکہ اس کا قتل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق جیوتی نے خود تفتیش کے دوران اعترافِ جرم کیا اور ساری تفصیلات بتائیں۔