پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی ادب شناس بیٹی فاطمہ بھٹو نے نئے سال میںThe Hour of the Wolf (اصطلاحاتی معانیٰ: سحرسے پہلے کی وحشت ناک گھڑی)نامی ایک یادداشت لکھی ہے جس میں انہوں نے اپنی پالتو پلّی’’ کو کو‘‘ اور خود اپنی زندگی کو استعارہ بنا کر آمریت، ظلم اور استبداد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی اور انسانی مسائل کی تشریح کی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے مرتضیٰ بھٹو کی موت کے بعد اپنی تنہائی اور دل پر گزرنے والے سردوگرم کی کہانی بھی سنائی ہے ایک طرف انہوں نے ایک نامعلوم شخص جسے انہوں نے The Manکا نام دیا ہے اس سے گیارہ سالہ خفیہ رومانس اور جھوٹے وعدوں اور بے وفائی کی لمحہ بہ لمحہ داستان محبت کو افشا کیا ہے تو دوسری طرف سوتیلے بھائی ذوالفقار جونیئر سے اپنی محبت اور اپنی پلی ’’ کوکو‘‘ سے اپنی وابستگی کو یادداشت میں پرویا ہے سوتیلی ماں غنویٰ بھٹو کے بارے میں بھی انہوں نے پہلی بار زبان کھولی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ انکی طبیعت میں دوسروں کو کنٹرول کرنے کی عادت ہے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر 41 پر انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنی سوتیلی ماں غنویٰ بھٹو سے یہ سوال اٹھایا کہ میں اپنی دولت کو کیا خود سنبھال نہیں سکتی اور کیا میں اپنا حساب کتاب خود چیک نہیں کرسکتی؟ اس پر غنویٰ بھٹو نے مجھے گالی نکالی اور دروازہ بند کرکے باہر نکل گئیں جانے سے پہلے مجھے غصے بھرے لہجے میں کہا’’ میں نے تمہارے والد کی موت کے بعد تمہاری جان بچائی اور اسکا شکریہ تم میرے سے حساب کتاب کرکے کررہی ہو‘‘ اسکے بعد غنویٰ بھٹو نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی اور زور سے دروازہ بند کیا۔ فاطمہ بھٹو کے بقول وہ تشدد اور قریبی لوگوں سے محرومی کے احساسات سے مغلوب ہوکر فوراً اپنی سوتیلی ماں کے سامنے سرنڈر کرگئیں اور کہا کہ آئندہ میں حساب کتاب نہیں دیکھوں گی۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ سوئے ہوئے کتوں کو سویا رہنے دیں (پرانے قصوں کو نہ چھیڑیں) اپنی سوتیلی ماں کی طبیعت اور بے نام رومانس کے’’ مرد‘‘ کی شخصیت کا تقابل کرتے ہوئے لکھتی ہیں صفحہ نمبر 44 پر’’ المیہ یہ ہے کہ اپنی کنٹرولنگ اور سانس بند کردینے والی ماں سے بچ کر میں ایک اور ظالمانہ تعلق میں پھنس گئی میں بالغ تھی اور میرے پاس کئی مواقع تھے اصل میں مجھے محبت کے بارے میں آگاہی اور شعور نہ تھا۔ اس کی وجہ میری اپنی غلطیاں اور ناکامیاں تھیں‘‘۔
فاطمہ بھٹو جانوروں سے اپنی محبت اور ان سے انسانی جذبات کے جڑے ہونے کو ذاتی تجربات سے بیان کرتی ہیں کہ انکا پالتو ہرن اس لیے مرگیا کہ اسے کراچی چڑیا گھر کو دیدیا گیا اور شاید اسکے مرنے کیوجہ اسکے دل کا ٹوٹنا تھا کہ اسے گھر سے نکال دیا گیا۔ فاطمہ بھٹو اپنے کتے’’لاما‘‘ کی موت کی وجہ بھی اسے نظر انداز کئے جانے کو سمجھتی ہیں۔ اپنی پالتو پلی’’ کوکو‘‘ کے ساتھ اپنی وابستگی کو وہ اپنی تنہائی کا استعارہ سمجھتی ہیں جس بے نام ’’ مرد‘‘ کے ساتھ انہوں نے اپنے تعلق کا ذکر کیا ہے اسکے تشدد اور زور زبردستی کی کہانی بھی بیان کی ہے اس ’’ مرد‘‘ نامی انسان نے نہ صرف ’’کوکو ‘‘ کو مارا بلکہ ایک دفعہ فاطمہ بھٹو کی انگلی کو اس طرح سے مروڑا کہ انکے انگلی کے پٹھے کے ریشے ہی ٹوٹ گئے۔
’’ مرد‘‘ نامی عجیب وغریب شخص سے اپنے تعلق کی کہانی بیان کرتے وہ صفحہ55پر لکھتی ہیں کہ اس شخص نے مجھے رات کے اندھیرے میں چاند کی ملگجی روشنی میں ایسے چلنا سکھایا جس سے آپ اپنے کو اس اندھیرے میں بھی مکمل طور پر ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔ اس نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ آپ اندھیرے میں آنکھیں مکمل بند رکھیں، تاکہ آپکو ستاروں کی مدھم روشنی کی ضرورت بھی نہ پڑے۔اس نے مجھے ننگے پائوں کھلی فضاؤں میں بند آنکھوں سے چلنا سکھایا اور یوں کہ میرے پاؤں زمین کو محسوس کرسکتے تھے۔ وہ لکھتی ہیں کہ جنگل میں بھیڑیوں یا گیدڑوں کی آواز آتی تو وہ منفرد ’’ مرد‘‘ کہتا ’’ چلتی رہو ڈرو مت ان جانوروں کو پتہ چل جاتا ہے کہ کون ڈر رہا ہے اور کون نہیں‘‘ فاطمہ بھٹو کے خیال میں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ انہیں اپنے بغیر زندہ اور محفوظ رہنے کی تربیت دے رہا تھا فاطمہ بھٹو اس تربیت کو خاص مہربانی سمجھتی ہیں۔
فاطمہ بھٹو کی ابتدائی زندگی دمشق شام میں گزری ہے وہ ستاروں کے علم سے آگاہی کی بات کرتی ہیں اور دب اکبر (Dipper) کے ذریعے سے رات کے مسافروں کی راہنمائی لینے کی کہانی سناتے ہوئے اپنی زندگی کے ساتھ جانوروں، ستاروں اور انسانوں کی جڑت بیان کرتی ہیں اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات انکی یاد میں بار بار آتے ہیں وہ اپنے والد کی خود کے لئے بے پایاں محبت اور ریاست وجبر کے خوف کے درمیان جیتی رہی ہیں اپنی محبتوں اور رشتوں کو خفیہ رکھتی رہی ہیں کہ ان رشتوں اور محبتوں کی حفاطت کرسکیں انہیں بچا سکیں۔
فاطمہ بھٹو نے اپنی ایک دوسری کتاب Sweat and Blood میں بے نظیر بھٹو کو اپنے والد مرتضیٰ بھٹو اور چچا شاہنواز بھٹو کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ لیکن حالیہ کتاب میں انکے کردار کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ نہ انہوں نے اپنی اصلی والدہ کا احوال لکھا نہ اپنے کزنز بلاول، بختاور اور آصفہ کا ذکر کیا اور نہ ہی بے نظیر بھٹو سے وابستہ کوئی یاد دہرائی۔ گارڈین اخبار کے بک سیکشن میں گزشتہ روز فاطمہ بھٹو کا نئی کتاب کے بعد ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انکے اپنے شوہر گراہم سے دو بچے میر اور کیسپئن ہیں اور انکی شادی شدہ زندگی خوشگوار چل رہی ہے وہ اپنی سوتیلی والدہ اور ’’ مرد‘‘ کے ساتھ خوف اور تعلق ٹوٹنے کے جس اندیشے میں زندگی بھر گرفتار رہی ہیں اب وہ اس سے نکل آئی ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ بعض اوقات ماں کی محبت میں بھی زہر ناکی ہوتی ہے‘‘۔
فاطمہ بھٹو نے اپنے بھائی ذوالفقار جونیئر کی سیاست یا مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ فاطمہ بھٹو پاکستانی سیاست میں عملی طور پر کوئی کردار ادا کرنے کے بارے میں خیال بھی ذہن سے نکال چکی ہیں۔ سوتیلے چھوٹے بھائی ذوالفقار جونیئر کے بارے میں انکا تذکرہ محبت آمیز ہے یہ بھی لکھا ہے کہ ذوالفقار کا بھی میری طرح جانوروں سے قلبی تعلق ہے جب بمبی نامی ہرن کو گھر سے نکالا گیا تو ذوالفقار کئی دن تک پریشان رہا مگر ماں غنوی کے سامنے احتجاج نہ کرسکا۔
فاطمہ بھٹو کی یادداشتیں ایک فرد کی ناکامیوں اور محرومیوں کی داستان نہیں جبر میں زندہ رہنے والے انسانوں اور معاشروں کے کرداروں پر جوانمٹ نفسیاتی بوجھ پڑتے ہیں یہ انکی جھلک ہے جب تک انصاف اور امن کا راج نہیں ہوتا فاطمہ بھٹو اور ان جیسوں کی زندگیاں سولی پر لٹکی رہیں گی۔