• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2050 میں پاکستان کی 34 کروڑ آبادی اثاثہ ہو یا بوجھ؟ اس کا فیصلہ ہونا ہے، نمائندہ یونیسیف

تصویر، سوشل میڈیا
تصویر، سوشل میڈیا

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی نمائندہ پارنل آئرن سائیڈ نے کہا ہے کہ 2050ء میں پاکستان کی آبادی 34 کروڑ اثاثہ ہو یا بوجھ اس کا فیصلہ ہونا ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں نیو ورلڈ کانسیپٹ عالمی خواتین لیڈر سمٹ سے خطاب میں پارنل آئرن سائیڈ نے زور دیا کہ ہر ماں اور اُس کے بچے تک تعلیم اور صحت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

تقریب سے جرمن سفیر اینالیپل اور یاسمین حیدر نے بھی خطاب کیا، مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان معیشت میں خواتین کا کردار ایک خاموش ساتھی کا ہے۔

مقررین نے کہا کہ آج بھی ملک کی 56 فیصد بالغ خواتین کے پاس نہ تعلیم ہے نہ روزگار ہے، اسکول نہ جانے والے تقریباً 3 کروڑ بچوں کا بڑا حصہ لڑکیوں کا ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ اگرچہ حالات نئی صدی کے آغاز سے بہت بہتر ہیں لیکن ہمارے اعداد عالمی سطح پر زیادہ اچھے نہیں ہیں، اس معاملے پر ماہرین کی رائے رہی ہے کہ خواتین کی تعلیم و صحت پر سرمایہ کاری خیرات نہیں ہے بلکہ یہ ملکی ترقی کی ضمانت ہے۔

مقررین نے یہ بھی کہا کہ عام مشاہدہ ہے کہ خواتین بااختیار ہوکر اپنے گھر اور معاشرے کی خوشحالی کا سبب بنتی ہیں اور وہ موقع دینے والوں کی شکر گزار بھی رہتی ہیں۔

کانفرنس کا پیغام رہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے آبادی کے دوسرے پہیے کو آزادی سے گھومنے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید