عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اگر لوگ تمباکو نوشی، شراب نوشی، فضائی آلودگی اور بعض انفیکشنز جیسے خطرناک عوامل سے گریز کریں تو کینسر کے ہر 10 میں سے تقریباً چار کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔
حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں سامنے آنے والے کینسر کے 38 فیصد (71 لاکھ) نئے کیسز ایسے اسباب سے منسلک تھے جن سے بچاؤ ممکن تھا۔
اس تحقیق میں ڈبلیو ایچ او کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کے ماہرین بھی شامل تھے۔
محققین نے کینسر کے خطرے میں اضافے کے 30 مختلف عوامل کا جائزہ لیا۔ اس مطالعے کے مطابق تمباکو کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے، جو تمام نئے کینسر کیسز کے 15 فیصد کا سبب بنا۔
کینسر کا سبب بننے والی دوسری سب سے بڑی وجہ کینسر پیدا کرنے والے انفیکشنز ہیں، جو 10 فیصد کینسر کے مریضوں میں مرض کا سبب بنا اور شراب نوشی 3 فیصد کینسر کے کیسز کی وجہ بنی۔
دیگر خطرناک عوامل میں موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، الٹرا وائلٹ شعاعیں اور کام کے دوران مضر مادّوں کا سانس کے ذریعے جسم میں چلے جانا شامل ہیں۔
مطالعے کے مرکزی مصنف اور ڈبلیو ایچ او میں کینسر کنٹرول کے سربراہ آندرے ایل باوی نے کہا کہ یہ پہلی عالمی تحقیق ہے جو واضح کرتی ہے کہ کینسر کے خطرے کا کتنا بڑا حصہ ایسے اسباب سے جڑا ہے جن سے بچاؤ ممکن ہے۔
تحقیق کے مطابق قابلِ روک تھام کیسز میں سے تقریباً نصف پھیپھڑوں، معدے یا سروائیکل کینسر کے تھے۔
پھیپھڑوں کے کینسر کا تعلق زیادہ تر تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے پایا گیا، جبکہ معدے کے کینسر کی بڑی وجہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری نامی بیکٹیریا قرار دیا گیا۔
سروائیکل کینسر کے زیادہ تر کیسز انسانی پیپیلوما وائرس (HPV) کے باعث ہوئے، جس کے خلاف ویکسین مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں قابلِ روک تھام کینسر کے کیسز خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائے گئے، جہاں مردوں میں 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد نئے کیسز قابلِ بچاؤ تھے۔ مردوں میں قابلِ روک تھام کینسر کے تقریباً ایک چوتھائی کیسز تمباکو نوشی سے جڑے تھے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 11 فیصد رہی۔
عالمی ادارۂ صحت کے محققین نے زور دیا ہے کہ تمام ممالک تمباکو پر سخت کنٹرول، شراب نوشی کے ضوابط، HPV جیسے عام انفیکشنز کے خلاف ویکسینیشن، بہتر فضائی معیار، محفوظ کام کی جگہیں، صحت مند خوراک اور ورزش کو فروغ دیں۔