سائنسدانوں نے پنکریاز (لبلبہ) کے کینسر کی جلد تشخیص کے لیے خون کے ایک ٹیسٹ کا طریقہ کار تیار کیا ہے، اس اہم تحقیق کی کامیابی سے اس مہلک اور جان لیوا کینسر کو قابل علاج مرحلے میں پکڑا جاسکے گا۔
اس حوالے سے امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیہ کے سائنسدانوں نے ایک نیا بلڈ ٹیسٹ ڈیولپ کیا ہے جو ممکنہ طور پر لبلبے کے کینسر کو جلد شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور اس طرح ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
یہ تحقیقی رپورٹ طبی جریدے اے اے سی آر میں شائع ہوئی ہے جس میں پنکریاز کے کینسر والے اور بغیر کینسر والے افراد کے محفوظ شدہ خون کے نمونوں میں مختلف مادوں کا تجربہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ ہر سال لاکھوں افراد لبلبے کے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مرض کا علاج نہایت مشکل اور اسکی تشخیص بہت عرق ریزی کے بعد ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ اکثر بہت دیر سے پکڑا جاتا ہے اور اس وقت تک علاج کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں، صرف 10 فیصد مریض ہی تشخیص کے بعد پانچ سال سے زیادہ زندہ رہ پاتے ہیں اور نصف سے زیادہ مریض تین ماہ کے اندر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
لیکن اب امید کی جا رہی ہے کہ یہ نیا ٹیسٹ پنکریاز ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کی ابتدائی مراحل میں شناخت کر سکے گا، جو لبلبے کے کینسر کی سب سے عام اور سب سے زیادہ جارحانہ اور مہلک شکل ہے۔ جس سے ڈاکٹروں کو وقت ملے گا کہ وہ علاج کریں اور لوگوں کے بچنے کے امکانات بڑھ جائیں۔