صدر ٹرمپ بدمست ہاتھی، ایران کو لتاڑنے کے جتن میں خرچ ہونے کو ہے۔ کھلی حقیقت ! اس وقت ایران بمقابلہ ریسٹ آف دی ورلڈ، اگرچہ مخفی طور پر چین ، روس ، ترکیہ ، پاکستان ، سعودی عرب کی اندرخانہ ایران کو دامے درمے سخنے سپورٹ موجود مگر ظاہراً کچھ نہیں ۔ صدر ٹرمپ دنیا کو کس آگ میں دھکیلنا چاہ رہا ہے ، شد ومد سے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہا ہے، دنیا کو دوزخ کا گڑھا بنانے پر تُلا ہے ، دنیا لرزہ براندام ہے ۔ کیاٹرمپ تباہی پہلے نازل کرنے میں کامیاب ہوگا ، یا ٹرمپ بذات خود تباہی کی نذر ہوگا ۔ ایران کیخلاف امریکی بحری بیڑوں کی صف بندی ، بحری بیڑہ ابراہم لنکن کیساتھ امریکہ تاریخ کا سب سے بڑا فوجی محاصرہ کر چکا ہے ۔
اگر صدر ٹرمپ اب جنگ کئےبغیر لوٹتا ہے تو پہلے ہلے میں 3 نومبر 2026ءکوہونیوالے مڈٹرم الیکشن میںذلت آمیر شکست یعنی کانگریس اور سینٹ میں اکثریت سے محروم ہو جائیگا اورامابعد IMPEACHMENT اور تاحیات جیل مقدر بننی ہے ۔
امریکہ اور مغرب کے عالمی شہرت یافتہ جان میئرشائمر ، اسٹیفن والٹ ، جیفری ساکس ، نوم چومسکی ، اسکاٹ رِٹر ، ڈگلس میک گریگر ، رے مک گوورن، کرس ہیجز اور یانیس وروفاکس اور کئی درجنوں درجنوں نامور دانشور، سابق فوجی، انٹلیجنس افسران اور ماہرینِ معیشت امریکہ اور یورپ کا اسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی بننا، دنیا پر قبضہ کی NEOCON سوچ اور امریکہ کی کمزور ملکوں کیخلاف رجیم چینج و جنگی پالیسیوں پر دہائیوں سے سخت ناقد ، متفقہ طور پر صدر ٹرمپ کو جھوٹا ، دھوکہ باز ، عالمی امن عامہ کیلئے خطرہ ، صہیونی اسرائیل کا پٹھو قرار دے چکے ہیں ۔
شرح صدر کیساتھ کہنا ہے ، اقوام عالم میں اسلامی ریاست کے قریب ترین ملک جمہوری اسلامی ایران ، باقی سب اسلام بیزار یا زبانی کلامی بھرتیاں ہیں ۔ ایرانی انقلاب کو کم و بیش 47 سال ہونے کو ، مملکت تب سے کھٹکتی ہے اسلام دشمنوں کے دل میں کانٹے کی طرح ،ایک پل چین نہیں لینے دیا ۔ فاسٹ فارورڈ ،تین سال پہلے بغیر حجاب اسلامی روایات کی نفی میں سڑکوں پر نکلنے والی ایک خاتون مہسا امینی کی حراست اور بعدازاں موت پر ستمبر 2022ءمیں نکلنے والے احتجاجوں کے ذریعے بھی اسلامی حکومت کو زمیں بوس کرنا تھا ۔ پوری دنیا کی پشت پناہی کے باوجود ، احتجاج بُری طرح ناکام رہا ۔
13 جون 2025ءکو اسرائیل کا ایران پرفوجی حملہ سوچی سمجھی دہائیوں کی پلاننگ اور امریکہ کی ملی بھگت تھی ۔شدید کشیدگی کا آغاز یکم اپریل 2024 کو ہوا ، جب دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا ، جسے ایران نے اسرائیلی کارروائی قرار دیا ۔ اس واقعے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر افسران کی ہلاکت نے خطے میں تناؤ کو غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا ۔ 13 اپریل 2024 کو ایران نے پہلی بار براہِ راست اسرائیل کی جانب بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ۔ اگرچہ اسرائیل اور اسکے اتحادیوں نے زیادہ تر حملے روک لینے کا دعویٰ کیا ، تاہم یہ کارروائی علامتی نہیں بلکہ ایک واضح اسٹرٹیجک پیغام تھی کہ ایران براہِ راست جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس دوران امریکہ کی دفاعی ، انٹلیجنس اور سفارتی حمایت اسرائیل کیساتھ رہی ۔
امریکہ اور اسرائیل کا بحرانی مخمصہ کہ ایرانی سیاسی ، عسکری طاقت کا کبھی صحیح اندازہ نہ لگا پائے ۔ 12 روزہ تاریخی جنگ ، 13 جون تا 25 جون پر سرسری نظر کہ اسرائیل نے اس حملے کی دہائیوں سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ ایران ، عراق ، شام ، لبنان ، آذربائیجان میں باقاعدہ موساد کے اڈے جبکہ ایران کے اندر ہر جگہ اپنے سلیپر سیل اور جاسوسی فوجی نیٹ ورک شہر شہر قریہ قریہ گھسا رکھے تھے ۔ 13 جون بروز جمعہ اسرائیل نے پہلے ہی ہلے میں ان سلیپر سیل کے ذریعے ایران کے نچلی سطح کا ریڈار سسٹم تباہ کر دیا ۔ ویسے تو سارے ایرانی سیاسی ، عسکری ، ایٹمی سائنسدانوں کو چن چن کر مارنا تھا ، چشم تصور میں ساری قیادت کے مارے جانے کے بعد ایران نے افراتفری ، انارکی اور 7 ممالک کو CAOS کی نذر رکھناتھا ۔ 2022 کا ایجنڈا کہ 7 ممالک عراق ، شام ، لیبیا ، صومالیہ ، یمن ، ایران تو عملاً ختم یعنی ( DYSFUNCTIONAL) کرنا تھا ۔ اب جبکہ صرف ایران ہی ایک فنکشنل ریاست بچی ، پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جون 2025 کے اسرائیلی حملہ کے ذریعے شرمندہ کرنا تھا ۔
پہلے دو دن خاطر خواہ کامیابی ملی بھی ، کئی اہم لیڈر ، جرنیل اور سائنسدان شہید ہوئے ۔ آفرین کی ایران نے پلک جھپکتے اپنے آپکو کو سنبھالا ، اپنے سپریم لیڈر اور صدر کی جان بچائی ، چند دنوں میں ایسا منہ توڑ جوا ب دیا کہ اسرائیل کے چھکے چھوٹ گئے ۔ بالآخر امریکہ کو اسرائیل کی FACE SAVING کیلئے ایران پر B-52 جہازوں سے حملہ کرنا پڑا ۔ آج بھی اسرائیل اور امریکہ کے اندر جو تذبذب ہے ، اسکی وجہ پچھلے سال کی 12 روزہ جنگ کے اثرات ہیں ۔ تکلیف دہ اتنا کہ مارچ 2026 کے اوائل میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ، جن کا مقصد پابندیوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی ، مذاکرات کی آڑ میں امریکہ نے دھوکہ دیا اور حملہ کروایا ۔ امریکی بدنیتی پر آج بھی سوالات کھڑے ہیں ۔
28 دسمبر 2025 کو شروع ہونیوالے احتجاجوں کی آڑ میں ایران پر حملہ کرنے کی گیدڑ بھبکیاں ، دہائیوں سے ہونیوالی سازشوں کا تسلسل ہیں ۔ 28 دسمبر کو ایران کے متعدد شہروں میں احتجاج شروع ہوئے تو بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر تھی۔مگر چند دنوں میں معلوم ہو گیا کہ ان احتجاجوں کے پیچھے موساد ، امریکی CIA اور برطانوی MI6 گوڈے گوڈے ملوث ہے ۔ حکمت عملی اتنی کہ فسادات کے ذریعے تربیت یافتہ کُرد بلوچی جنگجواور پاسداران انقلاب کے اندر چھپے باغی مل کر ایرانی قیادت کو قتل کریں گے ، ملک پر قبضہ کریں گے ۔ واشنگٹن نے مظاہروں کے دوران ایران کے سیکورٹی ردعمل پر سخت الفاظ استعمال کیے ۔ ایران کو خبردار کیا کہ امریکہ مظاہرین کیساتھ کھڑا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں مظاہرین کی حوصلہ افزائی کی اور مظاہرین کی حمایت میں حملےکی دھمکی دی ۔ اس بار ایرانی قیادت نے فہم ، حکمت ، فوجی ، سیاسی حکمت عملی سے انٹر نیٹ اسٹار لنکس، اسرائیلی جاسوسی نظام کو ختم کر دیا ۔ وینزویلا کے صدر میڈورا کے اغوا کے بعد صدر ٹرمپ کا بھی حوصلہ بلند ، اسی زعم اور اسرائیلی INSISTANCE پر آج آبنائے ہرمز میں ایران کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔ پچھلے ہفتےمیں تو کسی بھی وقت حملہ ہوا چاہتا تھا ۔
ایران کی پہلی دفعہ فیصلہ کن فتح کہ امریکہ اور اسرائیل ، ارادے باندھتا ہوں توڑ دیتا ہوں ، پوری دنیا جان چکی ہے کہ دونوں ایران کو’ مار کے مریں گے‘ پالیسی کے سامنے ڈھیر ہو چکے ہیں ۔ دو رائے نہیں کہ آج کی تاریخ میں ایران کے پاس اسرائیل کو تباہ کرنے کا مکمل نظام موجود ہے ۔ امریکہ کو خاطر خواہ نقصان پہنچانے کا بندوبست ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنی چالاکیوں کی حماقتوں میں مکمل پھنس چکے ہیں ۔ ہمیشہ لکھا کہ صدر ٹرمپ جنگ نہیں کرتے تو امریکہ میں منہ دکھانے یا منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملنی اور پھر اسی سال مڈٹرم الیکشن میں ناکامی، پھر مواخذہ پھر تاحیات جیل۔