• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت کی مضبوط بنیاد بلدیاتی ادارے اور ان کے تسلسل سے ہونے والے انتخابات ہیں۔ بلدیاتی نظام نہ صرف جمہوری عمل کو مستحکم کرتا ہے بلکہ نئی قیادت کو آگے آنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔فرانس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ انتخابی عمل کو شفاف اور منظم بنانےکیلئے پولنگ اسٹیشنز کی فہرستیں حتمی مراحل میں ہیں جبکہ انتخابی عملے کی تربیت کا عمل بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے اپنی انتخابی مہمات شروع کر دی ہیں جن میں عوامی رابطہ مہم، جلسے اور منشور کی تشہیر شامل ہے۔ ان انتخابات میں شہری ترقی، ٹرانسپورٹ،ماحولیات اور مقامی سہولیات جیسے امور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے نتائج مقامی سطح کے ساتھ ساتھ قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس تناظر میں وطنِ عزیز پاکستان کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ بلدیاتی نظام کو وہ تسلسل اور اہمیت حاصل نہیں ہو سکی جو ایک مضبوط جمہوریت کیلئے ضروری ہے۔ عوامی سطح پر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ مقامی حکومتوں کے فعال نہ ہونے سے عوامی مسائل نچلی سطح پر حل نہیں ہو پاتے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان آمد کے دوران دوست احباب اور عام شہریوں سے گفتگو میں معاشی مشکلات کا ذکر بار بار سامنے آیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگر آمدن اور اخراجات کے حوالے سے زمینی حقائق پر مبنی جائزہ لےکر معاشی بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے زندگی مزید دشوار ہو جائے گی۔ شہریوں کی یہ بھی رائے تھی کہ زکوٰۃ و عشر کے نظام کو ضلعی اور نچلی سطح پر مؤثر انداز میں فعال بنا کر مستحقین تک بہتر طریقے سے امداد پہنچائی جا سکتی ہے۔یہ نظام بھی حکومت اور عوام کے درمیان موثر کردار ادا کرتا رہا مگر بدقسمتی کی بات یہ ہےکہ پاکستان کے بلدیاتی اداروں کو آمریت کے دوران فعال کیا گیا جو وقت گزرتے ہی سرخ فیتہ کی نذر ہو تے رہے لیکن جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو بلدیاتی نظام کی بازگشت اور اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میںتو بلدیاتی ادارے صرف اور صرف منصوبے بنانے اور ان کی آڑ میں کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں پر مسلط بیوروکریسی صرف خوشامد میں وقت گزارتی ہے،زیر تعمیر منصوبوں کا توکوئی پرسان حال نہیں۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں صفائی، ٹرانسپورٹ اور شہری خوبصورتی کے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم مقامی سطح پر ان منصوبوں کے نفاذ میں انتظامی ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار اور تسلسل عوامی توقعات کے مطابق نہیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔چکوال شہر میں بنیادی سہولیات خصوصاً پانی کی فراہمی اور اندرونی سڑکوں کی حالت شہریوں کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چند روز تک پانی کی فراہمی میں تعطل اور بعض ترقیاتی منصوبوں کے التوا نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ بعض سرکاری افسران اور تکنیکی عملہ ذاتی دلچسپی اور انسانی ہمدردی کے تحت مسائل کے حل کیلئے متحرک نظر آیا، جس سے صورتحال میں جزوی بہتری آئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں میں شفاف منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنایا جائے، اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے۔ مؤثر مقامی حکومتیں ہی عوامی اعتماد کی بحالی اور جمہوری استحکام کی ضامن ہو سکتی ہیں ۔

تازہ ترین