• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی جی بنتے ہی عزم کیا کہ کچے سے ڈاکوؤں کا قبضہ ختم کرنا ہے: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دےکر کچے کے علاقوں میں بلایا جاتا تھا اور اغواء کر لیا جاتا تھا، ہم نے عہد کیا کہ کچے کے علاقے میں ریاستی رٹ کو بحال کرنا ہے۔

 پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاوان کی رقم سے اسلحہ خریدا گیا، پولیس کی کوتاہی تھی کہ ڈاکو وہاں آباد ہوئے، یہ سلسلہ منظم جرائم بن گیا، ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے بہتر اسلحہ تھا، پولیس نے اس کے باوجود بہت کوشش کی، آج ڈاکو مارے بھی جا رہے ہیں اور سرینڈر بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، کراچی میں جرائم کو کنٹرول کیا گیا، شہر میں نو گو ایریا تھا جس کو ختم کیا گیا، بدقسمتی سے چند سالوں میں کچے میں پولیس اور اسٹیٹ کی رٹ کمزور ہوئی، ماضی میں وہ وقت بھی آیا کہ 100 مغوی کچے میں موجود تھے، لالچ کی وجہ سےکچے میں اغواء برائے تاوان کے گھناؤنے کام نے مزید جڑیں پکڑیں، ڈاکوؤں نے جدید اور مہلک اسلحہ جمع کیا ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچےکا علاقے ایک بڑا مسئلہ تھا، اغوا برائے تاوان کے کیسز بڑھ گئے تھے، سستی چیزیں کی لالچ دے کر یا خاتون کی آواز میں بات کر کے لوگوں کو بلوایا جاتا اور اغواء کر لیا جاتا، کے پی، بلوچستان اور پنجاب سے بھی لوگوں کو بلوا کر اغواء کیا جاتا تھا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ آئی جی بننے کے بعد عزم کیا کہ کچے سے ڈاکوؤں کے قبضے کو ختم کرنا ہے، سندھ پولیس بہترین فورس ہے، وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کی سپورٹ حاصل ہے۔

قومی خبریں سے مزید