اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے سے 32 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق خودکش دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ کرنے والے بم بار کی شناخت ہوگئی۔ اس نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی۔
پمز ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 105 زخمی اور 28 میتیں لائی گئیں، 27 افراد کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دھماکے کے مقام کا دورہ کیا۔
پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جسے گیٹ پر روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل فائرنگ بھی کی۔
دھماکے کے بعد پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے دھماکا پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ اسلام آباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں خون کے عطیات کیلئے اپیل کی گئی ہے جہاں طبی عملے کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی جان بچانے کے لیے خون کی ضرورت ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 106 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے، پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی لائے گئے، جن میں سے 2 جاں بحق ہو گئے۔
اسپتال حکام کے مطابق فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 زخمی، بینظر اسپتال میں 2 زخمی جبکہ سی ڈی اے اسپتال میں ایک زخمی لایا گیا۔
وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے واقعے کی تحقیقات کر کے ذمے داران کے تعین کی ہدایت کر دی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیرِ صحت کو اس حوالے سے نگرانی کا حکم بھی دیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو اسلام آباد انتظامیہ کی بھرپور معاونت اور زخمیوں کو راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دھماکے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجدمیں خودکش حملہ انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر نے کہا کہ انسانیت، دین اور معاشرتی اقدار پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
برطانوی ہائی کمشنر نے بھی ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکے پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں جاں بحق اور زخمی افراد اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا اسلام آباد میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، حملے میں جاں بحق، زخمی بے گناہ نمازیوں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔
نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا امن و سلامتی کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، اس مشکل گھڑی میں امریکا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔