• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، 24 نمازی شہید، 100 سے زائد زخمی

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق خودکش دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا ہے۔

ڈی سی اسلام آباد کے مطابق خودکش دھماکے کے نتیجے میں شہید نمازیوں کی تعداد 24 ہو گئی جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جسے گیٹ پر روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل فائرنگ بھی کی۔

دھماکے کے بعد پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے دھماکا پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

اسلام آباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں خون کے عطیات کیلئے اپیل کی گئی ہے جہاں طبی عملے کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی جان بچانے کے لیے خون کی ضرورت ہے۔

اسپتال حکام کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 106 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے، پمز اسپتال میں اب تک 60 زخمی لائے گئے، پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی لائے گئے، جن میں سے 2 جاں بحق ہو گئے۔

اسپتال حکام کے مطابق فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 زخمی، بینظر اسپتال میں 2 زخمی جبکہ سی ڈی اے اسپتال میں ایک زخمی لایا گیا۔

شر پسندی و بے امنی پھیلانے کی ہر گز اجازت نہیں دینگے: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے واقعے کی تحقیقات کر کے ذمے داران کے تعین کی ہدایت کر دی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیرِ صحت کو اس حوالے سے نگرانی کا حکم بھی دیا۔

قومی خبریں سے مزید