پشاور(جنگ نیوز)وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے جمعہ کے روز محکمہ صحت کے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (MTIs) کے تمام ہسپتال ڈائریکٹرز (HDs) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت کو صوبے بھر کے تمام MTIs کی مجموعی کارکردگی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں جامع پریزنٹیشنز کے ذریعے انسانی وسائل کی موجودہ صورتحال، طبی آلات اور ادویات کی دستیابی، مجموعی بیڈز کی تعداد بالخصوص انتہائی نگہداشت یونٹس (ICUs)، نیز انتظامی و مینجمنٹ سے متعلق امور پر روشنی ڈالی گئی۔صوبائی وزیرِ صحت کو تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس تناظر میں خلیق الرحمان نے بنیادی اور ثانوی سطح کے صحت مراکز کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غیر ضروری ریفرلز میں کمی لائی جا سکے اور صحت کے وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے اس امر کا اعادہ کیا کہ موجودہ مالی اور سروس ڈیلیوری کے چیلنجز کے پیشِ نظر MTIs کو مرحلہ وار پائیدار مالی اور انتظامی ماڈل کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبائی حکومت پر مالی بوجھ کو کم کرتے ہوئے عوام کو معیاری اور مسلسل طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ ضروری ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف MCC سے منظور شدہ ادویات ہی MTIs میں خریدی اور فراہم کی جائیں۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کے تحت MTIs کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کے ذریعے لاکھوں افراد کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔