• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سزا یافتہ جنسی مجرم ایپسٹین کی فائلز میں نام آنے پر انوراگ کشیپ نے خاموشی توڑ دی

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

بھارتی معروف فلم ساز اور ہدایت کار انوراگ کشیپ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی تازہ دستاویزات میں نام سامنے آنے کے بعد خاموشی توڑ دی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انوراگ کشیپ نے انٹرنیٹ پر زیرِ گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سزا یافتہ پیڈوفائل جیفری ایپسٹین سے ان کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایپسٹین فائلز میں انوراگ کاشیپ کا حوالہ ایک ای میل تھریڈ کے ذریعے سامنے آیا ہے، اس ای میل تھریڈ میں مختلف بین الاقوامی ورکشاپس کے ممکنہ شرکاء کی فہرست شامل ہے۔

مبینہ طور پر منتظمین نے مذکورہ ای میل میں ایک بالی ووڈ بوائے اور ایک معروف بالی ووڈ ہدایت کار کا ذکر کیا ہے، جسے بعض حلقوں نے انوراگ کشیپ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

ان ورکشاپس کے موضوعات میں طب، ٹیکنالوجی اور بدھ مت جیسے موضوعات شامل تھے اور دعویٰ کیا گیا کہ 2017ء میں بیجنگ میں ایپسٹین سے منسلک ایک تقریب میں اس فلم ساز کی شرکت متوقع تھی۔

اب انوراگ کشیپ نے اس حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بیجنگ کا سفر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ میرا نام ان دستاویزات میں کیسے شامل ہوا، مجھے نہ تو ایسی کسی ای میل کا علم ہے اور نہ ہی کسی ایسی تقریب کا، مجھے پیشہ ورانہ بنیادوں پر تقریبات اور ورکشاپس میں شرکت کی متعدد دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، تاہم میں شاذ و نادر ہی ان کا جواب دیتا ہوں۔

انوراگ کشیپ کے مطابق ان کا جیفری ایپسٹین کے مبینہ نیٹ ورک سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

انہوں نے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے ترتیب ای میل ہے جو خود ہی سب کچھ واضح کر دیتی ہے، میرے نام پر بننے والی کلک بیٹ خبریں میری فلموں سے زیادہ مقبول ہو جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز میں کسی کا نام آنا لازمی طور پر کسی غلط کام یا مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا۔

ایپسٹین فائلز سے مراد ان دستاویزات کا ایک بڑا مجموعہ ہے جو جیفری ایپسٹین سے متعلق ہیں، ایپسٹین جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا اور 2019ء میں حراست کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔

ان ریکارڈز میں سفری تفصیلات، ای میل تبادلے، تقریبات کے دعوت نامے اور متعدد معروف شخصیات کے نام شامل ہیں۔

دستاویز میں ڈونلڈ ٹرمپ، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور بل گیٹس سمیت دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید