ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ میڈیٹیرینین ڈائٹ خواتین میں فالج کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
جرنل نیورولوجی اوپن ایکسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو باقاعدگی سے میڈیٹیرینین غذا کا استعمال کرتی رہیں ان میں فالج کا خطرہ 18 فیصد تک کم پایا گیا۔
اس مطالعے کے لیے سائنس دانوں نے کیلیفورنیا کی 1 لاکھ 33 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور اسکول ایڈمنسٹریٹرز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، ان خواتین کی غذائی عادات کو 1995ء سے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا تھا۔
تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو خواتین سختی سے میڈیٹیرینین ڈائٹ کا استعمال کرتی رہیں، ان میں اسکیمک فالج کا خطرہ 16 فیصد جبکہ ہیمرجک فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم رہا۔
21 سالہ فالو اَپ کے دوران تقریباً 4 ہزار 100 شرکاءنے فالج کے حملوں کی اطلاع دی۔
ماہرین میڈیٹیرینین ڈائٹ کو ایک صحت مند غذائی طرزِ زندگی قرار دیتے ہیں، جس میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، گری دار میوے، بیج، دالیں، زیتون کا تیل اور مچھلی کا باقاعدہ استعمال شامل ہے، جبکہ سرخ گوشت اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال کو محدود کیا جاتا ہے۔
محققین کے مطابق ہماری تحقیق اس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد کی تائید کرتی ہے کہ صحت مند غذا فالج بالخصوص ہیمرجک فالج سے بچاؤ میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس قسم کے فالج پر بہت کم بڑی تحقیق کی گئی ہے۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صحت مند خوراک فالج سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس خطرے میں کمی کے پسِ پردہ حیاتیاتی عوامل کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔