پاکستان ٹیلی وژن سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی معروف اداکارہ جویریہ عباسی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اپنی ذاتی زندگی کے اہم فیصلوں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
جویریہ عباسی نے اداکار شمعون عباسی سے کم عمری میں شادی، بعد ازاں طلاق اور بطور سنگل مدر بیٹی کی پرورش کی۔
اس حوالے سے اداکارہ نے کہا کہ میں نے کم عمری میں شادی اپنی مرضی سے کی اور مجھے اس فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں، میں شدت سے محبت کرتی تھی اور یہ میرا ذاتی انتخاب تھا، مجھے اپنی شادی یا طلاق کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ دونوں فیصلے میرے اپنے تھے، شادی سے مجھے ایک خوبصورت بیٹی ملی۔
انہوں نے کہا کہ میں اداکارہ بننا چاہتی تھی اور اسی لیے جلد شادی کی تاکہ کیریئر کا آغاز کر سکوں، والدین نے کہا تھا کہ شادی کے بعد مل کر جو کرنا ہو کریں، اسی سوچ کے تحت ہم دونوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔
جویریہ عباسی نے سنگل مدر ہونے کو سب سے بڑا سماجی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں سنگل ماں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں کہ آیا وہ بچے کی درست پرورش کر پائے گی یا نہیں، میری اولین ترجیح بیٹی کو اچھی تعلیم، درست مذہبی تربیت اور خودمختار فیصلوں کا حق دینا تھا۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو ایک آزاد انسان کے طور پر دیکھتی ہوں، ناکہ صرف اپنی اولاد کے طور پر، میں اپنی بیٹی کی زندگی میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرتی رہی ہوں، اس کی تعلیم، روزمرہ معمولات اور سرگرمیوں پر مکمل توجہ دی۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ابتدا میں بیٹی کے والد کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کچھ خدشات تھے، تاہم وقت کے ساتھ معاملات خود بخود واضح ہو گئے، میں نے کبھی بیٹی کو اپنے والد سے ملنے سے نہیں روکا کیونکہ میں جانتی تھی کہ باپ کی زندگی میں اہمیت کیا ہوتی ہے۔
جویریہ عباسی نے پہلی بار انکشاف کیا کہ میں خود ایک ٹوٹے ہوئے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور اپنی زندگی میں والد سے صرف 3 بار ملی ہوں، کم عمری میں شادی کے بعد میری اپنی زندگی شروع ہو گئی اور پھر ملاقات کا سلسلہ نہ بن سکا۔