وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام کے بعد ہم ترقی کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں، موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
عرب اخبار سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کا شراکت دار رہا ہے، ہم مشکل اور اچھے دونوں ادوار میں ملنے والی حمایت پر بے حد شکر گزار ہیں، اس شراکت داری کے تحت معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ سعودی کمپنی کی پاکستانی آئل اینڈ گیس سیکٹر میں شمولیت فعال سعودی سرمایہ کاری کی مثال ہے، سعودی عرب نے کھل کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے، خصوصاً معدنیات و کان کنی، آئی ٹیز، زراعت اور سیاحت میں سرمایہ کاری کا کہا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس انڈسٹری کی چوتھی پاکستان کلائمنٹ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد پر اوور سیز چیمبر کا شکر گزار ہوں، بینک ایبل پروجیکٹ لے کر آئیں فنڈنگ موجود ہے، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت مل کر کام کرتے ہیں، کانفرنس کی تجاویز کا دلچسپی سے منتظر رہوں گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو 2022ء میں سیلاب نے شدید معاشی نقصان پہنچایا، کلائمنٹ چینج پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے، معیشت میں نجی شعبے کا اہم کردار ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کا 1.3 ارب ڈالرز کا کلائمیٹ فنڈ ہے، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کلائمیٹ فیسیلیٹی بھی ہمارے پاس موجود ہے، شرم الشیخ میں جس طریقے سے طے ہوا تھا ویسے نفاذ نہیں ہوا، کیپیٹل مارکیٹس میں گرین بانڈز اور گرین سکوک جاری کیے گئے ہیں، اس سلسلے میں پانڈا بانڈز کا بھی اجراء کیا جا رہا ہے۔