• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے 37 سالہ روایت توڑ دی

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای---فائل فوٹو
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای---فائل فوٹو

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے 37 برسوں کے دوران پہلی بار 8 فروری کو فضائیہ کے کمانڈوز سے ہونے والی سالانہ ملاقات میں شرکت نہیں کی۔

یہ ملاقات 1979ء میں شاہی حکومت کے خاتمے سے قبل فضائیہ کے افسران کی آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی سے بیعت کی یاد میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال آیت اللّٰہ خامنہ ای کی جگہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی نے فضائیہ کے کمانڈروز سے ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق خامنہ ای 1989ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر سال اس تقریب میں شریک ہوتے رہے، حتیٰ کہ کورونا کی وباء کے دوران بھی انہوں نے مذکورہ تقریب میں شرکت کی تھی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی غیر حاضری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ قدم ممکنہ امریکی حملے کے خدشات یا قومی سلامتی کے معاملات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جہاز، طیارہ بردار بحری جہاز اور نگرانی کے طیارے تعینات کیے ہوئے ہیں جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید