• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوپیک سے متحدہ عرب امارات کے انخلاء کے عالمی تیل منڈی و امریکی مفادات پر بڑے اثرات

—فائل فوٹوز
—فائل فوٹوز

متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے باضابطہ انخلاء کے بعد عالمی تیل منڈی میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور امریکا کو اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یو اے ای کافی عرصے سے اوپیک کی پیداوار کی حدوں پر اعتراض کر رہا تھا کیونکہ اس نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے میں سرمایہ کاری کی مگر اسے مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں لا سکا، اب اوپیک سے نکلنے کے بعد وہ زیادہ تیل فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد یو اے ای روزانہ تقریباً 2 ملین بیرل اضافی تیل فراہم کر سکتا ہے جس سے قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اوپیک کی کمزور ہوتی گرفت امریکا کے لیے مثبت ہو گی کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں پر کارٹیل کا اثر کم ہو جائے گا۔

اس دوران امریکا خود بھی تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے اور موجودہ بحران میں اسے معاشی فائدہ ہوا ہے۔

دوسری جانب یو اے ای کا یہ اقدام امریکا کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی تعلقات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ مستقبل میں اوپیک کے دیگر ممالک بھی اس راستے پر چل سکتے ہیں تاہم تنظیم کے مکمل خاتمے کے بجائے اس کے کمزور ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق علاقائی سطح پر اس فیصلے کے اثرات خلیجی تعاون کونسل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید