بیرون ملک سے وطن آنے والے ایک پاکستانی اس بات پر شاکی نظر آئے کہ کراچی ایئر پورٹ پر امیگریشن کی طویل سست رفتار قطاروں کا پرانا طریقِ کار تاحال جاری ہے، گھنٹوں کے سفر کے بعد آنے والے مسافروں کو صرف اس سوال کا جواب دینے کیلئے انتظار کروایا گیا کہ ’’آپ یہاں کس فلائٹ سے آئے ہیں؟‘‘ انہوں نے اس طریقِ کار کا دبئی ہوائی اڈے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اپنا پاسپورٹ ایک اسمارٹ گیٹ پر اسکین کیا اور باہر آ گیا،وہاں نہ قطاریں تھیں، نہ بار بار پوچھے جانے والے سوالات اور نہ ہی کوئی غیر ضروری تاخیر‘‘۔بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی نے اپنا جو تجربہ بیان کیا اس سے دو نظاموں، دو رفتاروں اور دو ادوار کے درمیان فاصلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ دبئی ایئر پورٹ پر نظر آنے والی سہولت کے مربوط نظام میں مصنوعی ذہانت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کونسا مسافر معمول کے مطابق ہے اور کس مسافر کو مزید جانچ کی ضرورت ہے۔ کراچی ایئر پورٹ سمیت بیشتر پاکستانی ہوائی اڈوں پر ڈیٹا کی کیفیت زیادہ مربوط نہیں اور بعض امور کی ’’تسلّی بخش جانچ‘‘ضروری ہو جاتی ہے ۔ جہاں تک حکومتی پالیسی کا تعلق ہے وزیر اعظم شہباز شریف اداروں ، محکموں سمیت پوری مشینری کی کارکردگی سبک اور شفاف بنانے پر زور دیتے اور جائزہ اجلاسوں کی صورت میں ہدایات جاری کرتے نظر آتے ہیں۔اور گزشتہ روزوزیر اعظم شہباز شریف نے 2030ء تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری اے آئی کا نصاب تیار کرنے، اے آئی میں پی ایچ ڈی کیلئے ایک ہزار وظائف دینے، آئی ٹی اور اے آئی کے حوالے سے استعداد میں اضافے کیلئے قومی سطح پر پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہےمگر سب کچھ یک لخت نہیں ہو سکتا۔ نظام کوبدلنے میں کچھ وقت ضرور لگتا ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ نظام کا رخ واضح طورپر تبدیلیوں کے اشارے دے رہا ہے۔
اس باب میں بلوچستان کے صوبائی محکمہ خزانہ نے پچھلے مہینے کی اٹھارہ تاریخ کو سب اکائونٹنٹس کی تقرری کے ضمن میں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے میں پہل کاری کی۔ مطلوب تعلیمی ڈگریوں کے حامل امیدواروں کواسمارٹ ٹیب لیٹس دیئے گئے۔ہر امیدوار نے اپنا رول نمبر درج کیا جسکے بعد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام نے فوری طور پر کثیرالانتخابی سوالات پر منفرد پرچہ تیار کیا۔یہ بات یقیناً اہمیت کی حامل ہے کہ کسی دو امیدواروں کو ایک جیسا پرچہ نہیں ملا۔ جیسے ہی کوئی امیدوار امتحان مکمل کرتا، سسٹم فوراً اس کے حاصل کردہ نمبر مرکزی اسکرین پر ظاہر کر دیتا۔یوں سوالات کی تیاری سے امتحان ، جانچ، شارٹ لسٹنگ ، حتیٰ کہ تقرر کے اعلان کے اجرأ تک تمام مراحل مکمل ہو گئے۔ ا س عمل کا اختتام اس وقت ہوا جب وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے خود کامیاب امیدواروں کو تقرری کے خطوط تقسیم کئے۔ ان کا انتخاب کسی سلیکشن بورڈ نے نہیں بلکہ ایک خود کار نظام نے کیا تھا۔ عشروں سے جاری ایسی فضا میں کہ اقرباپروری اور سفارشی کلچر کی بنا پر تقرریوں سمیت کئی معاملات میں شفافیت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، چار گھنٹوں پر محیط ایک تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے سرکاری بھرتیوں میں کسی بھی جانبداری یا تعصّب کے بغیر اہل اور باصلاحیت افراد مہیا کئے جا سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال اگرچہ کئی معاملات میں ہماری زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہےمگر کئی محکموں، اداروں اور سروسز میں اس کی غیر موجودگی تبصروں کی زد میں آنے کا باعث بن سکتی ہے۔ جب نظام خود فیصلہ کرنے لگے توانسانی اختیار محدود ہوجاتاہے ، کمزوریاں سامنے آتی اور اصلاح احوال کے امکانات بڑھتے نظر آتے ہیں ۔ مصنوعی ذہانت، ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ڈیٹا کو سمجھتی، نمونوں کو پہچانتی اور بہتر و تیز تر فیصلوں کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ شعور نہیں رکھتی مگر انسان کیلئے فیصلہ سازی کا آلہ بنتی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مظاہر ایک طرف مختلف شعبوں میں کام کرنے والے روبوٹس، انسان سے باتیں کرنے اور اسے مشورہ دینے والے لیمپ، بغیر ڈرائیور کی گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں، ٹریفک دبائو کی صورت میں اڑنے والی کاروں کی ایجادات سے متعلق خبروں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈیٹا معلومات، مطلوب حوالہ جات تک فوری طور پر رسائی حاصل کرنے ،انہیں ترتیب دینے کی صلاحیت کی بنا پر یہ ٹیکنالوجی ججوں، مصنّفین، اسکالرز، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دوسرے شعبوں کے لوگوں کی معاونت کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ برطانیہ سمیت کئی ممالک میں مصنوعی ذہانت ، عدالتوں میں استعمال ہو رہی ہے لیکن یہ جج کی جگہ نہیں لیتی، اس کیلئے حوالہ جات کی فراہمی سمیت مختلف صورتوں میں وقت بچانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں عدلیہ پر زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور جلد فیصلہ کرنے میں یہ ٹیکنالوجی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ صحّت کے شعبے میں اس کے فوائد درست تشخیص، مریض کی حالت سے متعلق پیش گوئی، بر وقت علاج سمیت کئی صورتوں میں سامنے آچکے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خود کار بسوں سے لے کر ٹریفک سگنلز کے خود فیصلہ کرنے کے نظام کی طرف بڑھنے کے انکشافات ظاہر کر رہے ہیں کہ انسانی غلطیوں سے ہونیوالے حادثات میں کمی کی کاوشیں موثر تر بنائی جا رہی ہیں۔ اس باب میں دنیا بھر میں نظر آنیوالے تجربات ظاہرکر رہے ہیں کہ انسان اب صرف مسئلے حل نہیں کر رہا بلکہ مسائل سے بچنے کےنئے راستے بھی نکال رہا ہے۔
کراچی اور دبئی کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو حاصل سہولتوں کے حوالے سے مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل فرق انفرا اسٹرکچر کا نہیں بلکہ سمت ،ارادے اور عملی تسلسل کا ہے۔ پاکستان کے پاس انسانی صلاحیت کے علاوہ ڈیجیٹل وسائل اور ابتدائی نظام کی موجودگی تسلی بخش ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے مرکزی وژن کے تحت یکجا اور موثر بنایا جائے۔