• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانسیسی شخص نے 9 ممالک کے 89 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، تہلکا خیز انکشافات

—فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا
—فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا 

فرانس کے جیک لیوگل نامی ایک ٹیچر نے 5 دہائیوں کے دوران 9 مختلف ممالک کے 89 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جیک لیوگل 2024ء میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سے حراست میں ہے۔

اب حال ہی میں فرانس ایٹین مینٹو نامی پراسیکیوٹر نے فرانس کے 79 سالہ ٹیچر کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

پراسیکیوٹر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام معلوم ہونا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد ممکنہ متاثرین کو آگے آنے کے قابل بنانا ہے، استغاثہ نے پہلے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی کیونکہ ہم سب سے پہلے حقائق جاننا چاہتے تھے۔

ایٹین مینٹو نے بتایا کہ جیک لیوگل پر 1967ء سے 2022ء کے درمیان 13 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام ہے۔ 

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس شخص نے بچوں کے خلاف جرائم مبینہ طور پر جرمنی، سوئٹزرلینڈ، مراکش، نائجر، الجیریا، فلپائن، بھارت، کولمبیا اور فرانس کے سمندر پار علاقے نیو کیلیڈونیا میں کیے۔

ایٹین مینٹو نے بتایا کہ اس نے ٹیچر کا روپ دھار کر یہ جرائم کیے، اس نے مختلف ممالک کا سفر کیا، وہاں ٹیچر بن کر نوجوانوں سے ملا اور پھر ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ہمیں متاثرین سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس نے غیر ملکی زبانیں بھی سیکھیں۔

ایٹین مینٹو نے بتایا کہ جیک لیوگل کے بھتیجے نے ہمیں ایک یو ایس بی لا کر دی جس میں اس نے نوجوانوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے بارے میں اپنی تحریریں مرتب کیں۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ امید تھی کہ دستاویزات کے ذریعے متاثرین کی شناخت ہو جائے گی لیکن دستاویزات میں متاثرین کی مکمل شناخت موجود نہیں ہے۔

ایٹین مینٹو نے گواہوں اور متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت سمیت 8 ممالک میں اجتماعی زیادتی کے کیس میں گواہی دیں۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران جیک لیوگل نے اپنی کینسر کے مرض میں مبتلا ماں کو منہ پر تکیہ رکھ کر مارنے کا اعتراف بھی کیا اور صرف ماں ہی نہیں بلکہ اس نے اپنی 92 سالہ خالہ کو بھی اسی انداز میں قتل کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید