کراچی کی خاتون نے 20 سال گزرنے کے باوجود فلیٹ کا قبضہ نہ ملنے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں بلڈر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار شاہدہ بیگم نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کے علاقے صدر میں 2006ء میں فلیٹ بک کرایا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلیٹس تعمیر ہوچکے ہیں لیکن ان کی موکلہ کو تاحال اپنے فلیٹ کا قبضہ نہیں دیا جا رہا۔
دوسری جانب بلڈر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ قبضہ دینے کو تیار ہیں تاہم ابھی تک کنٹونمنٹ بورڈ سے بلڈنگ پلان کی منظوری نہیں ملی۔
سندھ ہائیکورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈ کراچی سے جواب طلب کرلیا۔