کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپننگ بلے باز احمد شہزاد نے کہا ہے کہ ٹیم سے باہر رہنا تکلیف دہ ہے، کیوں کہ ان کا 9 سالہ بیٹا انہیں کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے۔
حال ہی میں انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’ہارنا منع ہے‘ میں اپنے خیالات پیش کئے اور ٹیم میں واپسی کی خواہش بھی ظاہر کردی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جذباتی ہو جاتا ہوں، اگر سچ کہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، میں کھیلنا چاہتا ہوں، میرے بیچ میٹس سب کھیل رہے ہیں۔ مجھے ان کے لیے خوشی ہوتی ہے، مگر میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجوہات تھیں، ایسا کیوں ہوا؟
پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کی قاتح ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ رہنے والے بیٹر نے کہا کہ ہر ڈرافٹ یا نیلامی کے بعد کے دن میرے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں۔ مجھے اس فیلڈ میں 18 سال ہو چکے ہیں، اور یہ سب اچانک ختم ہونے پر مجھے بہت یاد آتا ہے، اکثر رونا آ جاتا ہے۔ 2، 3 دن بہت مشکل ہوتے ہیں، ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ تقریباً دو دہائیوں تک پاکستان کرکٹ کے نظام کا حصہ رہنے اور فینز کی جانب سے بھرپور حمایت کے باوجود کسی نے باضابطہ طور پر ان سے رابطہ نہیں کیا۔
احمد شہزاد نے کہا کہ ایسا کیوں ہے، کسی سے اتنا نہیں ہوا کہ مجھ سے آ کر بات کرے، پوچھیں کہ کیا ہوا احمد بھائی؟ آئیں بیٹھ کر اسے حل کریں اور پاکستان کے لیے کچھ کریں، لیکن یہ سب ان کے لیے بہت مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ٹیم تو یہ سمجھتی رہی کہ شاید مجھ پر پابندی عائد ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ احمد نے خوشی خوشی ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کوئی واضح مؤقف نہیں دیا گیا۔
انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ میری موجودگی لیگ کی مقبولیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر میرا نام پی ایس ایل میں ہو تو کیا لیگ کا پروفائل اوپر نہیں جائے گا؟ لوگ دیکھیں گے، کچھ محبت میں، کچھ نفرت میں اور کچھ صرف تفریح کے لیے۔
احمد شہزاد نے واضح کیا کہ میں خود حکام سے رابطہ نہیں کرسکتا، کھلاڑی کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی عزت اور خودداری ہے۔ میں کسی کو فون کر کے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئیں معاملہ طے کر لیتے ہیں۔
اپنے بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے وہ مزید جذباتی ہو گئے اور کہا کہ اس بار سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ میرا بیٹا 9 سال کا ہو گیا ہے اور وہ چاہتا تھا کہ میں کھیلوں۔ وہ میرے ساتھ سوتا ہے اور کہتا ہے کہ بابا، مجھے یاد ہے آپ کھیلا کرتے تھے، لیکن اب میں آپ کو کھلتا ہوا دیکھ کر زیادہ بہتر طریقے سے یاد رکھوں گا، یہی بات میرے دل کو لگی۔
مایوسی کے باوجود احمد شہزاد نے کہا کہ میں اپنے فیصلوں پر قائم ہوں، میں نے ہمیشہ اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری ہے، جس پر اسٹوڈیو میں موجود حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کے مؤقف کو سراہا۔