• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تازہ ترین خبر ، کل ہی نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں نہ صرف امریکہ کو ایران پر حملے کی ترغیب دی بلکہ غزہ اور اسکے گرد و نواح میں مبینہ طور پر ایسے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر بھی بریفنگ دی جو غزہ کے مکینوں کو جلا کر خاکستر کر رہے ہیں ۔ اسی ملاقات میں نیتن یاہو نے کمال بے نیازی کیساتھ غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط کر دیئے اور اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ۔ غزہ امن بورڈ کا اجلاس پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے ، اور پاکستان کے وزیر اعظم نے خندہ پیشانی اور جانفشانی کیساتھ اس دعوت نامے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے قبول کر لیا ۔

فلسطینیوں کی تکہ بوٹی کے بعد امن کے عزم کی جو نشست منعقد ہو گی ، اس میں ’’ایک ہی صف میں ساتھ ساتھ بیٹھے ہوں گے شہباز و عیار‘‘ ، فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے صہیونی نیتن یاہو کیساتھ ہمارا انقلابی وزیراعظم جب نظر آئیگا تو کیا منظر ہوگا ، الامان الحفیظ ۔ ہمارے وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کی خوشامد کے پل باندھے ۔ ٹرمپ نے اس تعریف کو اپنے امیج کی مارکیٹنگ میں بلاتوقف استعمال کیا ۔ ہمارے وزیر اعظم نے اسے اپنی حوصلہ افزائی جانا چنانچہ تب سےیہ لامتناہی سلسلہ نہ ختم ہونے کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ توصیف تعریف کیا گل کھلائے ؟ فی الفور تو وزیراعظم پاکستان کو بین الاقوامی ڈریکولا کیساتھ نشست اور تصویر بنوانے کی تیاری پکڑنی ہے ۔

مملکتِ خداداد اسلامیہ فاشزم کے نرغے میں ، فرموداتِ عالیہ فیصل واوڈا نے پریشان کر رکھا ہے ۔ حیرانگی نہیں کہ فیصل واوڈا نافذ نظام کے من و عن ترجمان ہیں ۔ فیصل واوڈا اور اُنکے سرپرستِ اعلیٰ جیسے دوست ہوں ، اُسے پھر دشمنوں کی کیا ضرورت ؟ قول فیصل ’’ 500 سے 5000 سیاستدانوں کو گولی مار دی جائے تو وطنی مسائل حل ہو جائیں گے ‘‘۔یاد رہے ، جب مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کیساتھ ملکر جنرل باجوہ کی پہلی توسیع کے حق میں ووٹ دیا ، تو موصوف اس وقت دو پاور سنٹرز ( POWER CENTERS ) کے ترجمان تھے ۔ زعم میں لائیو TV شو میں فوجی بوٹ لے آئے اور دورانِ پروگرام میز پر رکھ کر پوری قوم کو انکی اوقات باور کروا دی ۔ کسی مہذب ملک میں ایسی حرکت پر زندگی بھر کیلئے ٹی وی پر پابندی لگ جاتی ۔ یہی حرکت اگر مجھ جیسے کسی پاکستانی سے سرزد ہوتی تو فوجی استعارہ کی توہین کے جرم میں 14 سال قید بامشقت ملنی تھی ۔ ایک دو دن پہلے حامد میر صاحب کے شو میں نئے قول فیصل نے ہکا بکا کر دیا کہ’’ ہر سیاسی جماعت کے چوٹی کے پانچ سو افراد مار دیے جائیں تاکہ سنجیاں ہو جان گلیاں، تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ ۔ یہ فقط بیان نہیں تھا ، ایک مخصوص فاشسٹ ذہنیت کی نمائندگی ہے ۔ مجھے یقین ہے اس واقعہ پر بھی انکی TV ریٹنگ نے بڑھنا ہے ۔

میری حقیرانہ رائے میں ہزاروں سیاستدانوں کے قتل کی بجائے اگر اُن چند انجینئرز کا قلع قمع ہو جاتا جو 75سال سے ایسے سیاستدان تیار کرتے آرہے ہیں ، کاش ایسی فیکٹریاں بند ہو جاتیں تو نہ بانس ہوتا، نہ بانسری اور نہ بانسری والوں سے شکایت کی نوبت آتی ۔

کسی ریاست کے بنیادی اجزائے ترکیبی فقط تین ، (1) عوام النّاس ( 2) خزانہ ( 3) لشکر ، حقی سچی جائز حکمرانی کیلئے تینوں اجزاکا بدرجہ اتم ہونا ضروری ہے ۔ وطنی بدقسمتی ، شاذونادر ہی تینوں جُز کسی حکومت کے پاس بکثرت موجود رہے ہوں ۔ آج وطن عزیز ، تاریخ کی بدترین POLARIZATION سے نبردآزما ہے ۔ عمران خان بمقابلہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ گھمسان کا رَن ، ملکی چولیں ہلا چکا ہے ۔ آج کی تاریخ میں حکومت کے پاس فقط خزانہ کی چابیاں اور لشکر کی کمان ہے جبکہ خلقتِ خدا باجماعت عمران خان کے قبضہ استبداد میں ہے ۔ کاش ! عمران خان خلقِ خدا حکومت کے حوالے کر دیتا یا پھر حکومت خزا نہ کی چابی اور لشکر کی کمان عمران خان کے سپُرد کر پاتی ۔

مارچ 2021 میں " پراجیکٹ عمران خان " کو DISMANTLE کرنے کا جب ارادہ باندھا گیا تو گماں اتنا تھا کہ’’ چٹکی سے یوں مسل دیں گے ، خود بنایا ہے تو خود ہی توڑ دیں گے‘‘ ، وہم و گماں میں نہ ہوگا کہ کمبل گلے پڑ جائیگا ۔ 10 اپریل اقتدار سے علیحدگی ہوئی تو عمران خان کو ادارے پر چڑھ دوڑنے کی سہولت فراہم کئے رکھی گئی کہ مذموم ارادے کچھ اور بھی تھے ۔ وطنی تاریخ میں کسی کو جلسوں میں آرمی چیف کی ایسی بے حُرمتی کی جرأت نہ ہوئی جو عمران خان کو سہولت حاصل تھی ۔ ادارے کے کرتا دھرتا نے2022 میں کئی درجنوں ایسے جلسے جلوس اور ریلیوں کو SPONSOR کیا جس میں عمران خان نے ادارے کیخلاف بدترین زباں استعمال کی ۔ ہمت جواں ، حوصلہ بلند ، ستمبر 2022 میں انہی لوگوں کی شہ پر GHQ پر عمران خان نے چڑھائی کا اعلان کیا جسے جہاد اکبر کا نام دیا ۔ لوگوں سے عہد و پیماں اور حلف لئے گئے ۔ میرے نزدیک سانحہ 9مئی سے بڑا اور گھناؤنا جرم تھا کہ ادارے کے اندر کے لوگوں کی ہلا شیری پر عمران خان نے ادارے پر چڑھائی کردی ۔

امابعد نومبر 2022 ، بہت کچھ تبدیل ہوا مگر بہت دیر ہو چکی تھی ، عمران خان وسیع و عریض خلقتِ خدا کے دلوں کو گھائل کر چکا تھا، دلوں کا راج دُلارا بن چکا تھا ۔ پچھلے سواتین سالوں عمران خان کا جِن بوتل میں ڈالنے کے جتن جاری ہیں ۔ شرح صدر کیساتھ عرض ہے کہ اگر عمران خان سیاست سے یکسر نابلد نہ ہوتا ، سیاسی استعداد صفر بٹہ صفر نہ ہوتی تو اس عوامی قوت سے اب تک اپنے مخالفین کو چھٹی کا دودھ یاد دلا چکا ہوتا ۔ عمران خان اور مخالفین دونوں میں کچھ ا قدار مشترک کہ دونوں فریقین جھوٹ ، بدنیتی ، ریاکاری ، ناانصافی ، نالائقی سے مالامال ہیں ۔ دونوں اطراف احمقوں کی جنتیں آباد کئے ہیں ۔ دونوں فریقین اپنے اپنے جھوٹ ، مبالغہ اور طفل تسلیوں کیساتھ اپنی اپنی دنیا بسا بیٹھے ہیں ۔ دونوں کی گزر اوقات کا انحصار ایک دوسرے کی حماقتوں اور نالائقیوں پر ہے ۔ دونوں کی پہلی ترجیح انکی ذاتِ مبارکہ اور پھر پاکستان ہے ۔ آج اِنکی دھینگا مشتی سے وطن عزیز ہلکان و برباد ہو چکا ہے ۔

1971 ءمیں مملکت کو دولخت ہوتے دیکھا ، اب دل و دماغ کوئی ایسا سانحہ دیکھنے کا متحمل نہیں ۔ خدا کے واسطے شخصی ذاتی انا پر مملکت کو بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ کچھ مثبت خبریں اشارے کہ ملکی معاملات مفاہمت کی طرف گامزن ہیں ، اللہ کرے ثمرآور ہوں ۔ سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو ملنا اور کورکمانڈر کا ن لیگ وزراء اور محسن نقوی سے میٹنگ کرنا ، اچکزئی اور وزیراعظم صاحب کی ممکنہ ملاقات ، اچکزئی کا قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ سب اتفاقی نہیں ، یقینا عمران خان آن بورڈ ہیں ، انکی اشیرباد حاصل ہے ۔ کل میری اپنی ملاقات سیکورٹی ادارے کی اہم شخصیت سے ہوئی ، انکے لب و لہجہ و سوچ میں واضح تبدیلی نظر آئی ۔ بڑے عرصہ سے ایک دلی خواہش کہ متحارب گروپ کوئی ایسا راہِ عمل جس میں عوام الناس ، خزانہ اور لشکر کسی ایک جگہ کسی مشترکہ و متفقہ حکومت کے نیچے اکٹھے ہو پاتا ؟ ممکن ہو سکتا ہے ۔ نواز شریف یہ رول ادا کر سکتے ہیں کہ ادارے کے اندر بھی احساس اُبھرا نظر آیا ہے ۔ کاش نواز شریف کوئی تاریخی رول ادا کرتے ، تاریخ رقم کرتے ۔

تازہ ترین