ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے مقابلے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے، پاکستان اور بھارت کا میچ آج کولمبو میں کھیلا جائے گا۔ روایتی حریفوں کے درمیان میچ آج پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا جہاں بادلوں کے بھی برسنے کا امکان ہے۔
بھارتی ٹیم کے پاس بیٹنگ کا ہتھیار ہے تو پاکستانی شاہین بولنگ سے وار کریں گے۔ کولمبو میں آج بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں مہارت کا استعمال اور اعصاب کا امتحان اور صلاحیتوں کا اظہار ہوگا۔
گرین شرٹس نے ہلکی بوندا باندی کے ساتھ فیلڈنگ، بولنگ اور بیٹنگ کی بھرپور اور مکمل پریکٹس کی۔
بھارتی ٹیم نے بھی ٹریننگ کی اور پاکستان کے مسٹری اسپنر عثمان طارق کا مقابلہ کرنے کیلئے اُن کے نیٹ پر بولرز نے عثمان طارق کے انداز میں بیٹرز کو بولنگ کروائی تاہم بارش کے سبب بھارتی ٹیم پریکٹس مکمل نہیں کرسکی۔
دونوں ٹیمیں ایونٹ میں اب تک اپنے دو دو میچز کھیل چکی ہیں اور دونوں ہی فتحیاب ٹھہریں، تاہم آج کے میچ کی فاتح ٹیم گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جمالے گی۔
ٹیمیں ہاتھ ملائیں گی یا نہیں؟ دونوں کپتانوں کا یکساں جواب
کولمبو میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ پاک بھارت مقابلے کو دوبارہ خالصتاً کھیل کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ کہ کسی سیاسی تناؤ کے تناظر میں۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر بھارتی کھلاڑی مصافحے کے لیے آگے بڑھیں تو کیا آپ ہاتھ ملائیں گے؟ اس سوال پر سلمان آغا نے براہِ راست ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے مختصر ردِعمل دیا کہ یہ کل پتہ چل جائے گا۔
بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے پریس کانفرنس میں پاکستان بھارت کے میچ کے بعد کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کے معاملے میں کہا کہ ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کرلیں، کل دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کس کا پلڑا بھاری
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم ریکارڈ کے اعتبار سے پاکستان پر حاوی ہے، دونوں ٹیمیوں کے درمیان اس فارمیٹ کے میگا ایونٹ میں 8 مقابلے ہوئے جس میں سے 7 بھارت نے جیتے ہیں، صرف ایک میں پاکستان کو فتح ملی ہے۔
یہ میچ پاکستان کے پہلے اسپورٹس چینل جیو سوپر پر براہ راست نشر کیا جائے گا جبکہ جیو نیوز پر میچ سے متعلق خصوصی ٹرانسمیشن بھی جاری رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ٹاکرے میں کس کی فتح میں اضافہ ہوتا ہے یا پھر بارش یہ میچ بہالے جائے گی؟
پاکستان کا بنگلادیش سے اظہار یکجہتی، بھارت سے کھیلنے سے انکار
خیال رہے کہ بنگلادیش کی جانب سے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شرکت پر اپنی ٹیم کےلیے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وینیوز کی تبدیلی کی درخواست کی تھی جسے آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا۔
اس پر بنگلادیش نے احتجاجاً ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تو آئی سی سی نے بنگلادیش سے بات کرنے کے بجائے ایونٹ سے بنگلادیش کو نکال کر اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔
بعدازاں پاکستان نے کرکٹ کونسل کے اس اقدام کو دہرا معیار قرار دیا اور بنگلادیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کرکے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
بعدازاں آئی سی سی نے پاکستان کو منانے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم اس سلسلے میں بریک تھرو 9 فروری کو آئی سی سی کی ڈپٹی چیئرمین، صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان 4 گھنٹے سے زائد طویل ملاقات میں ہوا اور چیئرمین پی سی بی نے وزیراعظم شہباز شریف سے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم کی ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے کی اجازت
دریں اثنا سری لنکن صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کرکے انہیں پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ ختم کرکے اور ٹیم کو میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔
سری لنکن صدر کی درخواست پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے خلاف گروپ میچ کھیلنے کی اجازت دی اور دونوں ٹیمیں آج شیڈول کے مطابق گروپ اے کا اپنا میچ کھیلنے جارہی ہیں۔