• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بابر اعظم کو ڈراپ کیا گیا یا آرام دیا گیا؟ محمد عامر نے وضاحت مانگ لی

—فائل فوٹوز
—فائل فوٹوز

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اسکواڈ میں بابر اعظم اور صائم ایوب کو شامل نہ کرنے پر سلیکٹرز سے وضاحت طلب کر لی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا بابر اعظم اور صائم ایوب کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم سے نکالا گیا ہے یا صرف آرام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ کیا صائم اور بابر کو ٹی ٹوئنٹی کارکردگی کی بنیاد پر ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہے یا انہیں صرف اس فارمیٹ سے آرام دیا گیا ہے۔

محمد عامر نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر انہیں کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم سے باہر کیا گیا ہے تو وہ واپسی کے لیے ون ڈے کرکٹ کہاں کھیلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے ورلڈ کپ میں تقریباً 8 ماہ باقی ہیں، اس لیے یہ بھی واضح کیا جائے کہ بنگلا دیش سیریز کے لیے منتخب کیے گئے کھلاڑی ہی کیا ورلڈ کپ کی ٹیم کا بنیادی حصہ ہوں گے یا نہیں۔

دوسری جانب سابق قومی بیٹر احمد شہزاد نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا بابر اعظم کو ٹیم سے نکالنے سے پہلے اعتماد میں لیا گیا تھا؟ اگر بابر نے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے تو واضح طور پر بتایا جائے، ورنہ وہ اس سلوک کے مستحق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم اب بھی ون ڈے اور ریڈ بال کرکٹ میں پاکستان کے بہترین بیٹر ہیں اور ٹیم کو ان کی ضرورت ہے۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب پی سی بی نے بنگلا دیش کے خلاف 3 میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا، جس میں بابر اعظم اور صائم ایوب شامل نہیں تھے، بورڈ نے ان کی عدم شمولیت کی واضح وجہ بھی بیان نہیں کی۔

اسکواڈ میں 6 نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار ون ڈے فارمیٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ ٹیم کی قیادت شاہین آفریدی کریں گے۔

پاکستانی ٹیم بنگلا دیش 8 مارچ کو پہنچے گی جبکہ 3 میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ 11 مارچ کو  کھیلا جائے گا، دوسرا میچ 13 مارچ اور تیسرا اور آخری میچ 15 مارچ کو ہو گا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید