• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری ایک دوست اپنی زندگی میںپے درپے مشکلات اور مصائب سے گزری، گھٹیا ترین شوہر، تکلیف دہ ازدواجی زندگی ،طلاق کے بعد اکلوتے بیٹے کی غیر معمولی نفسیاتی بیماری کا تنہا مقابلہ کیا۔ بیٹے کے علاج کے سلسلے میں جب ماہر نفسیات کے پاس جاتی تو اس کی کہانی سن کر ہر ڈاکٹر حیرانی سے یہ سوال ضرور پوچھتا کہ آپ کے ٹین ایج بیٹے کے نفسیاتی مسائل تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ حالات کے ان بے رحم تھپیڑوں میں آپ خود کیسے ٹھیک رہیں؟انزائٹی اور شدید ڈپریشن کے مسائل تو سب سے پہلے خود آپ کو ہونے چاہئیں تھے۔ یہی سوال ایک روز میں نے اپنی دوست سے کیا اس نے ایک گہری سانس لی اور مسکراتے ہوئے بولی سب سے اہم بات اللہ پر میرا توکل مضبوط ہے اور یہ توکل مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہیں ڈگمگایامیں نے مشکل ترین حالات میں بھی خود کو مثبت رکھا اور ہر اس نعمت کا شکر ادا کیا جو مجھے میسر تھی خواہ وہ چائے کا ایک اچھا کپ ہو ،کسی اچھی سہیلی کے ساتھ گزرا وقت ہو یا سردیوں میں ایک دھوپ بھرا دن ہو۔

ازدواجی زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی میں نے خود کو کوئی نہ کوئی نیا ہنر سیکھنے میں لگائے رکھا ،شوہر کی طرف سے بے جا پابندیوں نے میری سرکاری نوکری بھی چھڑوادی ،جو چیز میں کھو چکی تھی اس کا غم پالنے کی بجائے میں جو کچھ اپنے گھر میں کر سکتی تھی میں نے وہ کرنا شروع کر دیا میں نے گھر پر بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ اسی طرح میں نے خود کو مشاغل میں مصروف کیا اپنے ذہن کو کبھی فارغ یا خالی نہیں رکھا میں اس کی بات حیرت سے سن رہی تھی۔ وہ مزید بولی کہ مجھ پہ اللہ کا سب سے بڑا کرم یہ ہے کہ میں زمانہ حال میں جیتی ہوں نہ میں ماضی کے پچھتاووں میں خود کو الجھاتی ہوں نہ آنے والے وقت کے خدشوں میں اپنا وقت ضائع کرتی ہوں بس لمحہ موجود میں رہتی ہوں یہ مجھ پہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے جب مجھ سے کوئی ماہر نفسیات پوچھتا تھا کہ آپ کس طرح ذہنی طور پر شاداب اور صحت مند ہیں تو میں انہیں بھی یہی جواب دیتی تھی کہ مجھ میں اوور تھنکنگ کی عادت نہیں میں لمحہ موجود سےجڑی رہتی ہوں اور اس وقت جو نعمتیں مجھے میسر ہیں ان کیلئے میرا دل رب کے حضور شکر سے بھرا رہتا ہے ۔

میں اپنی جس سہیلی کا ذکر کر رہی ہوں اس کی ساری زندگی میرے سامنے ہے ۔مصائب کے کٹھن صحراؤں سے گزر کر اب وہ ایک پرسکون اور خوشگوار موڑ پر موجود ہےاس کا بیٹا شہر کے بہترین ادارے سے تعلیم حاصل کررہا ہے ۔دو برس جس بچے نے شدید انزائٹی میں بات چیت کرنا چھوڑ دی تھی اب وہ اپنی کلاس میں پریزنٹیشن دیتا ہے۔ مزید تعلیم حاصل کرنےکیلئے اسکالرشپ ملنے کے قریب ہے ۔یہ سب اس کی ماں کی مشکل ترین حالات میں توکل اللہ اور شکر گزاری کا معجزہ ہے ۔ورنہ جن حالات سے وہ گزری لوگ اس میں خودکشی کا سوچتے ہیں یا پھر ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

ہم اپنے جسم کو صحت مند رکھنے کیلئے ورزش کرتے ہیں ۔صحت مند غذا کھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ذہن کیلئے اچھی خوراک کا بندوبست نہیں کرتے۔ ایک منفی خیال ہمارے جسم کی کیمسٹری کو بدل سکتا ہے ہمیں اپنے جسم کیلئے بھی اچھی غذا کا انتخاب کرنا چاہیے ۔شکر گزاری کا ہر مہکتا خیال نہ صرف ہمارے ذہن کے حبس زدہ ماحول میں تازہ ہوا کی کھڑکیاں کھولتا ہے بلکہ ہمارے جسم میں رواں دواں لہو کو متاثر کرکے ہمارے جسم کو کئی قسم کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔شکر گزاری کیلئے کئی طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔اپنے پاس ایک نوٹ بک رکھیں اور ہر روز ہونے والی پانچ چھ 10 اچھی چیزیں جو آپ کے دن کو خوبصورت بنا رہی ہیں ان کا شکر ادا کریں۔زندگی خوشی اور غم دونوں کا مرکب ہے لیکن ہم اپنے زاویہ نگاہ کو بدل کر چیزوں میں خوشی اور شکر تلاش کر کے اپنی زندگی میں خوشی کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔

اپنے ارد گرد چیزوں میں زندگی کے مختلف لمحات میں اچھی چیز کو تلاش کرنا اور شکر گزاری کے پہلو کو تلاش کرنا دراصل انسان کا اپنی ذات کے اوپر ایک احسان ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی زندگی کو اپنی سوچ کو مثبت چیزوں سے بھرتا ہے۔ہر وقت مستقبل کے خدشوں اور اندیشوں میں گرفتار شخص یا ماضی کے غلط فیصلوں پر پچھتاتا ہوا انسان کبھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ بھی ایسی عادت کا شکار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی روح اور جسم کے اندر شکر گزاری کے دروازے کو بند کر رہے ہیں اور شکر گزاری کے دروازے کو بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مثبت سوچ کے دروازے کو اپنی زندگی میں بند کر رہے ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے تمام دن میسرنعمتوں پر رب کا شکر ادا کریں۔جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کیلئے شکر گزار ہو جائیں آپ یقین کریں آپ کے پاس وہ کچھ آنے لگا جس کی آپ کو خواہش ہے ۔لیکن اگر آپ زندگی میں یہی سوچتے رہیں جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں تو پھر آپ کے پاس کبھی اتنا کافی نہیں ہوگا کہ آپ زندگی میں خوش رہ سکیں۔

اپنے روزمرہ کے معمولات پہ غور کریں اور ان میں سے شکر گزاری کے پہلو تلاش کریں۔ دیکھیں کہ ہمارے روزمرہ کے معمول میں ان گنت ایسی نعمتیں ہیں جو ہمیں بغیر کسی تگ ودو کے میسرہیں، ہم فار گرانٹڈ لیتے رہتے ہیں۔ (فار گرانٹڈ کیلئے کوئی مناسب اردو لفظ ذہن میں نہیں آرہا )ہمارا یہ رویہ ہمیں شکر گزاری کے حقیقی جوہر اور اصل کیفیت سے دور کر دیتا ہے ۔کبھی ایسی نعمتوں کی فہرست تو بنا کر دیکھیں جو ہمیں قدرت کے اس نظام میں مفت میسر آتی ہیںمگر ہمیں بے مثل آسودگی اور خوشی سے ہم کنار کرتی ہیں۔ موٹر وے پراس وقت سفر کرتے ہوئے وسط فروری کی دوست دار دھوپ آس پاس کے کھیتوں کھلیانوں پر پھیلی ہے اور گاڑی کے شیشوں سے ٹکراتی ہوئی مجھ تک پہنچتی ہے تو میں خوشی سے اس کا ہاتھ تھام لیتی ہوںاس لمحے میرا دل مسرت اورشکر گزاری کے بے پایاں احساسات سے لبریز ہے۔

تازہ ترین