• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی دار الحکومت اسلام آبادکے نواحی علاقہ ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر خودکش حملہ میں 32سے زائد نمازیوں کی شہادت نےپورے پاکستان کے عوام کو سوگوار کردیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے وزراء کے ہمراہ جائے وقوعہ پر اور دہشت گرد کو قابو کرنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے والے شخص کے گھر اظہار تعزیت کیلئے گئے ۔

پاکستان کم و بیش نصف صدی سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے ۔کے پی کے اور بلوچستان بد ترین دہشت گردی کا شکار ہیں۔بھارت اور افغانستان اسپانسرڈدہشت گردی نے پاکستانی عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں ۔ 2008کے بعداسلام آباد میں یہ دہشت گردی کی بد ترین واردات ہے جسے فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ خیبر پختونخوا ور بلوچستان میں سیکورٹی ایجنسیز طالبان اور بی ایل اے کے دہشت گردوں سےنبرد آزماتھیں ہی اب وفاقی دار الحکومت اسلام آباد جو ہر لحاظ سے محفوظ شہر تصور کیا جاتا ہے دہشت گردوں کا نشانہ بن گیا ہے۔ ممکنہ دہشت گردی روکنے کیلئے نہ صرف امام بارگاہ ومسجدانتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے بلکہ معمول کی پولیس نفری بھی موجود تھی ۔سیکورٹی میں غفلت کا پہلونظر نہیں آتا خود کش دھماکے کے کر داروں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ایک نمازی نے نماز توڑ کر خود کش بمبار کو قابو کرنے کی کوشش میں اپنی جان بھی قربان کر دی ۔اسلام آباد کی سیکورٹی کے ذمہ داران وفاقی وزراء اور اعلیٰ پولیس افسران واقعہ کے فوری بعد جائے وقوعہ پر پہنچے ۔ امام بارگاہ ومسجد کے منتظمین نے بھی ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔سب نےامام مسجد کی امامت میں نماز مغرب ادا کر کے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ۔ سوال یہ ہے دہشت گردی میں ملوث افراد نے 6فروری کے دن کا کیوں انتخاب کیا؟ لاہور میں تین روزہ’’ جشن بسنت ‘‘ منایا جا رہا تھا ،دہشت گردی کی واردات نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کے ماحول کو سوگوار بنا دیا ۔حکومت پنجاب نے جشن بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کر دیں۔کے پی کے اور بلو چستان میں بھی آئے روز دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیںان وارداتوں میں ملوث سینکڑوںافراد جہنم واصل کر دئیے گئے ہیں لیکن دہشت گردوں کو انکے منطقی انجام تک پہنچانے میں خاصی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت کی صورت قیمت ادا کرنی پڑی ۔ چاروں صوبوں میں امن و امان کی صورت حال مختلف ہے۔بلوچستان ’’را‘‘ اسپانسرڈ دہشت گردی کا نشانہ ہے ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے باوجود افغانستان کے راستے آنے والےبی ایل اے کے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکا نہیں جاسکا۔اب تو بلوچستان میں دن کے اجالے میں بھی دہشت گرد کارروائیاں کر گزرتے ہیں۔بلوچستان کی حکومت کے پاس سیکورٹی کے فنڈزکی کمی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو صوبے کی سیکورٹی انتظامات کیلئے10ارب روپے کی امداد دینے کی نوبت آگئی ہے۔کے پی کے کی صورتحال بھی ابتر ہے صوبائی حکومت امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑاہونے کی بجائے وفاقی حکومت کو نیچا دکھانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔پہلی بار صوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں نے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدقسمتی سےمسجد خدیجتہ الکبریٰ میں خود کش دھماکے میں ملوث شخص کا تعلق پشاور سے ہے ۔

نادرا ریکارڈ کے مطابق وہ کئی بار افغانستان کے چکر لگا چکا ہے افغانستان میں موجود’’ را ‘‘کے 21تربیتی کیمپوںسے دہشت گرد پاکستان بھجوائے جا رہے ہیںبھارت نے پاکستان سے مئی 2024ء کی جنگ میں شکست کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے ،اب وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پراکسی جنگ لڑ رہا ہے اگرچہ اس واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر حملہ آوار کی شناخت افغان شہری کے طور نہیں ہوئی اس واقعہ میںجاں بحق ہونے والوں میں آئی جی اسلام آباد کا فرسٹ کزن بھی شامل ہے ۔امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ کے دروازے پر حملہ آور کو روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا خودکش بمبار کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا پمز کے مردہ خانے میں لاشیں رکھنے کی جگہ کم پڑنے پر قابل شناخت افراد کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے خود کش بمبار نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔

افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد طالبان رجیم کی سرپرستی میں تربیت حاصل کر رہے ہیں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے پس پشت افغان بھارت گٹھ جوڑ ہے۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کاکہنا ہے یہ واقعہ سیکورٹی کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ردعمل ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست ہے اس دیوار کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی و دینی جماعتوں کی طرف سے اس واردات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے حکومت دہشت گردی کی اس واردات کو’’ رد عمل ‘‘قرار دے کر اپنے آپ کو واقعہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔یہ سنگین نوعیت کی واردات انتظامیہ اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی سازش کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے پہلے دہشت گردی پر 500ڈالر دئیے جاتے تھے اب 1500 ڈالر دئیے جاتے ہیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اس واردات کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈال دیا ہے اور ’’یہ جو دہشت گردی واپس آئی ہے اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے ‘‘۔اسلام آباد کے 93داخلی راستے ہیں، ریڈ زون ہے اسلام آبادپولیس کی 80فیصد نفری50سال سے زائد عمر کی ہے۔ آئے روز اسلام آباد میں جلوس نکالے جاتے ہیںدہشت گردی کی واردات کی روک تھام کیلئے پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جائے ۔

تازہ ترین