• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سب سے طاقتور ریاست امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں نے نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی منظرنامے میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ ان کی صدارت کا بنیادی نعرہ ’امریکہ فرسٹ‘ رہا ہے، جسکے تحت قومی مفادات کو ہر سطح پر مقدم رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ انکے انتخابی ایجنڈے میں ٹیکسوں میں کمی، اقتصادی ترقی کا فروغ، دفاعی بجٹ میں اضافہ، امیگریشن نظام میں سخت اصلاحات، غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری، حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی اور ہیلتھ کیئر سسٹم کی تشکیل نو شامل تھے۔ری پبلکن حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی قانونی اور غیر قانونی امیگریشن دونوں پر سخت اقدامات شروع کیے۔ اسٹوڈنٹ، ورک اور ایچ ون ویزوں کے اجرا میں نمایاں کمی کی گئی جبکہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن اور عارضی اسٹیٹس رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔ اگرچہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی ملک بدری پر امریکی عوام کی بڑی تعداد کو اعتراض نہیں تھااور یہی مسئلہ گزشتہ انتخابات میں ری پبلکن کامیابی کی ایک بڑی وجہ بھی بناتاہم انفورسمنٹ کے سخت اور بعض اوقات بلاامتیاز طریقہ کار پر امیگرنٹس کے ساتھ ساتھ کئی مقامی امریکی حلقوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ڈیموکریٹک پارٹی نے اس صورتحال کو سیاسی طور پر بھانپتے ہوئےایوان نمائندگان میں امیگریشن انفورسمنٹ کی فنڈنگ اس وقت تک روکنے کا اعلان کیا ہے جب تک اس کے طریقہ کار میں اصلاحات نہ کی جائیں۔ مبصرین کے مطابق ڈیموکریٹس اس مسئلے کو آئندہ مڈٹرم انتخابات میں سیاسی فائدے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔معاشی محاذ پر صدر ٹرمپ نے مقامی صنعت کو فروغ دینےکیلئے بیرونی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے اور عالمی کمپنیوں کو امریکہ میں پیداواری یونٹس قائم کرنے کی تنبیہ اور ترغیب دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔

بعض حالیہ رپورٹس کے مطابق بیروزگاری کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، پیٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے اور افراطِ زر بڑی حد تک کنٹرول میں ہے ۔ تاہم خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام شہری کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے، جس سے حکومتی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔ہیلتھ کیئر اور سوشل سکیورٹی کے شعبوں میں اصلاحات بھی زیر بحث ہیں۔ قانونی حیثیت کے بغیر مقیم افراد اور عارضی ویزوں کے حامل افراد کیلئے مفت علاج اور بعض مراعات کے خاتمے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جسکے سماجی اثرات آئندہ برسوں میں واضح ہوں گے۔بین الاقوامی سطح پر بھی ٹرمپ انتظامیہ نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ متعدد ممالک پر سفری پابندیاں اور امیگریشن پراسیسنگ کی معطلی نے کئی کمیونٹیز کو متاثر کیا ہے، جن میں پاکستانی نژاد امریکی بھی شامل ہیں۔ ایسے خاندان جن کے عزیز اسپانسر یا امیگرنٹ ویزوں کے منتظر تھے، ان فیصلوں سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی اپنی محنت، قانون پسندی اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے، مگر سیاسی اثر و رسوخ اور منظم نمائندگی کے فقدان کے باعث وہ پالیسی سازی پر خاطر خواہ اثر نہیں ڈال پاتی۔ہماری حکومت بھی اپنے داخلی مسائل میں الجھی ہوئی ہے اسلئے ایسے معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہی ۔ خارجہ پالیسی میں صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کا محور امریکہ کی عسکری اور معاشی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔ روس یوکرین جنگ، چین کے گھیراؤ، نیٹو میں یورپی مالی شراکت داری اور گرین لینڈ میں دفاعی تنصیبات جیسے معاملات اسی وسیع تر اسٹرٹیجی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔اسی تناظر میں "گولڈن ڈوم" میزائل ڈیفنس منصوبہ بھی زیر عمل ہے، جس پر کئی سو ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں خلائی دفاعی نظام اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے ممکنہ میزائل حملوں کا قبل از وقت سدباب کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں، امریکی دفاعی افواج اسپیس ایکس کےساتھ ملکر سینکڑوں جدید ٹیکنالوجی سے لیس سیٹلائٹ مدار میں بھیج رہی ہیں تاکہ ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہو جائے ۔داخلی سیاست کے تناظر میں اپیسٹین فائلز اسکینڈل امریکی سیاست اور میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے ، جیفری اپیسٹین سے منسوب ان دستاویزات میں دنیا بھر کے بااثر افراد، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات کے نام گردش میں ہیں ۔ مڈ ٹرم الیکشن کے دو سال بعد آئندہ صدارتی انتخابات نومبر 2028ءمیں متوقع ہیں۔ امریکی آئین کے مطابق کوئی بھی صدر دو مدتوں سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا، لہٰذا ری پبلکن پارٹی کی قیادت کے ممکنہ امیدواروں کے نام ابھی سے گردش میں ہیں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس ، لاطینی نژاد سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور ہوم لینڈ سیکرٹری کرسٹی نیوم شامل ہیں۔صدر ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے تین سال باقی ہیں اور فی الحال انکی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی جارحانہ اور قومی مفاد پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے امریکہ کی عالمی برتری کو مزید مستحکم کر پائیں گے، یا عالمی بدلتی صورتحال ، اپوزیشن کا دباؤ اور سیاسی تقسیم ان کے اندرونی و بیرونی ایجنڈے کو محدود کر دے گی؟ آنے والا وقت اس کا فیصلہ کرے گا کہ یہ دور عالمی استحکام کا سبب بنتا ہے یا مزید کشیدگی کا۔ صدر ٹرمپ جو ابھی مزید تین سال صدر کے عہدے پر فائز رہیں گے آیا اس عرصے میں وہ دنیا میں امن قائم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

تازہ ترین