• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غلطیاں کھلاڑیوں کی نہیں کھلانے والوں کی ہیں، ماہرین

کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین کرکٹ شہزاد اقبال ،سکندر بخت،کامران مظفر،راشد لطیف اور محمد عامر نے کہا ہے کہ ہمارے کوچز، سلیکٹرکا قصور ہے سارے کھیل کی غلطیاں کھلاڑیوں کی نہیں کھلانے والوں کی ہیں۔ نئے چہرے لانے کی ضرورت ہے، سنیئر کھلاڑی اہم پوزیشن پر مایوس کن کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ وہ جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن اسپورٹس فلور میں میزبان دانش انیس سے گفتگو کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر شہزاد اقبال نے کہا کہ نئے چہرے لانے کی ضرورت ہے ۔ سنیئر کھلاڑی اہم پوزیشن پر مایوس کن کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ بالکل بھی مقابلہ ہوتا ہوا نظر نہیں آیا ۔ شاہین سے یہی لگ رہا ہے کہ اُس سے بولنگ نہیں ہو رہی ہے۔سنیئر پلیئرز کو بیٹھا دیں ان کا ٹائم ختم ہوگیا ہے ابھی سے ان کو بیٹھا دیں اور نافع، سلمان مرزا اور فخر زما ن کو لے کر آئیں۔شاہین آفریدی نے سوئنگ کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ جب میرٹ کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا تو اسی طرح کے نتائج آئیں گے، انجری کے بعد پرفارمنس دئیے بغیر شاداب ٹیم میں آجاتے ہیں، شاداب، شاہین شاہ، اور بابر کی ورلڈ کپ میں جگہ نہیں بنتی ہے یہ ڈومیسٹک میں جائیں پرفارم کریں اور پھر واپس آئیں۔ ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت نے ازراہ تفنن کہا کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے انشاء اللہ ہم فائنل جیتیں گے ۔ مائیک ہیسی ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا ہوا ہے میں انہیں کوچ نہیں مانتا میری ان سے دو تین ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کی باتوں سے مجھے بہت تعجب ہوا ان کی سوچ ہی الگ ہے۔یہ مسئلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے لڑکوں کا نہیں ہے ٹیم سلیکشن اور اسٹرٹیجی بنانے والوں کا مسئلہ ہے۔ ہمارے کوچز، سلیکٹرکا قصور ہے ہمارے پروڈیسر کہہ رہے ہیں نام نہ لیں ۔ سرپرائز پیکج آپ نے بند کر کے رکھا ہوا تھا پہلی وکٹ گرنے کے بعد انہیں لانا چاہئے تھا۔ کرکٹ ڈیٹا اینالسٹ کامران مظفر نے کہا کہ ہار کھیل کا حصہ ہے اور انڈیا نمبر ون رینکنگ میں ہے جبکہ پاکستان چھٹے ساتویں نمبر پر ہے اور یہ فرق نظر آرہا ہے لیکن آج جس طرح سے میچ ہارے ہیں اس سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ ہماری پلاننگ پوری طرح منہدم ہوگئی ہے۔
اہم خبریں سے مزید